بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے۔ عالمی جریدے یو سی اے نیوز نے بھارت میں دلت برادری کی صورتحال پر رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بھارت میں دلتوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
یو سی اے نیوز کے مطابق دلتوں کو آج بھی مساوی حقوق کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں اسے ذات پات پر مبنی تعصب کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم دلت برادری کے مسائل اس وعدے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
و سی اے نیوز کی رپورٹ میں 2022 کے اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس سال دلتوں پر تشدد کے 57 ہزار 500 سے زائد مقدمات درج ہوئے۔ ان میں اتر پردیش میں 15 ہزار سے زائد مقدمات رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار بھارت میں دلت برادری کو درپیش مشکلات کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔
یو سی اے نیوز کے مطابق دلتوں پر مظالم کے معاملات میں انصاف کے حصول پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اونچی ذات کی خواتین کے معاملات پر فوری ردعمل سامنے آتا ہے۔ اس کے برعکس دلتوں پر مبینہ مظالم کے معاملات میں انصاف کی رفتار مختلف نظر آتی ہے۔ رپورٹ نے بھارت میں ذات پات کے نظام پر جاری بحث کو بھی اجاگر کیا ہے۔
کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بھی ذات پات کے تعصب پر بات کی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی سے وابستہ بعض عناصر دلتوں کے خلاف امتیازی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے بھارت میں سماجی مساوات اور دلتوں کے حقوق پر زور دیا ہے۔ دلتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کا معاملہ بھارت میں سیاسی اور سماجی بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔
