پاکستان کے نوجوان کرکٹر رضا اللہ نے پاسپورٹ سے متعلق افواہوں کی تردید کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پاسپورٹ ایک سال پہلے ہی بن چکا تھا۔ رضا اللہ نے یہ بات انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے تیسرے روز کے اختتام پر کہی۔ انہوں نے محمد عباس کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ رضا اللہ نے میچ میں 81 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔
رضا اللہ نے بتایا کہ وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے کیمپ سے واپس گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صبح فجر کی نماز کے دوران انہیں نبیل بھائی کی کال آئی۔ کال پر انہیں فوری طور پر لاہور واپس آنے کو کہا گیا۔ رضا اللہ نے بتایا کہ انہیں لگا شاید ایشین گیمز کے لیے بلایا گیا ہے۔ تاہم، لاہور پہنچنے کے بعد انہیں اصل صورتحال کا علم ہوا۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ وہ ٹیسٹ میچ کھیلنے جا رہے ہیں۔
اپنی بیٹنگ کے بارے میں رضا اللہ نے اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں نصف سنچری اور سنچری بنا چکے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں اپنی بیٹنگ کی صلاحیت پر یقین تھا۔ رضا اللہ نے خود کو آل راؤنڈر بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شارٹ بال ان کی پسندیدہ گیند ہے۔ ان کے مطابق وہ شارٹ گیند کو اچھا کھیلتے ہیں۔ رضا اللہ نے بتایا کہ وہ ہر بولر کے خلاف جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
پریس کانفرنس کے دوران رضا اللہ نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔ ایک سوال پر انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ تین بیٹ ساتھ لائے تھے۔ ان کے مطابق ان میں سے دو بیٹ ٹوٹ گئے۔ اب ان کے پاس صرف ایک بیٹ باقی بچا ہے۔ رضا اللہ کی 81 رنز کی اننگز نے ان کے ٹیسٹ ڈیبیو کو نمایاں بنا دیا ہے۔
