وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نےتحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کو موخر کرنے کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ دھرنوں سےبھاگ گئے،ہمت ہے تو آؤ، ان کی لانگ مارچ اور دھرنے کی کوئی تیاری بھی نہیں تھی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ کے پی میں امن وامان کےحالات ہیں اور صوبائی حکومت ان حالات سے بے خبر ہے، امن وامان کے حوالے سے اقدامات کرنے سے بھی گریز کر رہی ہے، دہشتگردوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر حملے کئے لیکن تحریک انصاف دہشتگردوں کی منظور نظر ہے، وہ دہشتگردوں کی مذمت کرنے اور ان کےخلاف کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ یہ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم اور ٹی ٹی اےکی سی ٹیم ہے ، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کم اور ٹی ٹی پی کے کمانڈر زیادہ لگتے ہیں۔ یہ دھرنوں سے بھاگ گئے،ہمت ہے تو آؤ، ان کی لانگ مارچ اور دھرنے کی کوئی تیاری بھی نہیں تھی ، رواں سال ہمارے 472 سیکیورٹی جوان شہید ہوئے،1500زخمی ہوئے، ان کا پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس ہے، کے پی میں غیرقانونی مائننگ ہیں، کرم میں فائرنگ ہوئی یہ لوگ بھاگ گئے، میں کوہاٹ ایک شخص کی عیادت کے لیے گیا، اس نے کہا ہم تو بزدل نہیں یہ ہوں گے بزدل ، اس نے کہا ہمیں ٹھیک ہونے دیں ہم ان دہشتگردوں کا مقابلہ کریں گے، یہ پہلے دہشتگردوں سے ہاتھ ملاتےہیں،ان کی سہولت کاری کرتے ہیں پھریہ خود کو سیاسی کہتےہیں۔
وزیر اطلاعات کا کہناتھا کہ انہوں نے پولیس ریفارمز کے بجائے الٹا قانون بنایا، یہ پولیس کو سیاسی فورس بنانا چاہتے ہیں ، یہ چاہتے ہیں پولیس ان کی سہولت کاری کرے، دہشتگردی کے خلاف ہمارے جوان پوری طرح سے متحرک ہیں، ایک دن دہشتگردپوری طرح پسپا ہوں گے، صوبائی حکومت ہرقسم میں دہشتگردوں کی سہولت کاری سے باز رہے۔
