وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا ہےکہ حکومت کو بوم اینڈ بسٹ سائیکل ختم کرکے پائیدار معاشی ترقی پر توجہ دینا ہوگی۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نےتقریب سےخطاب میں کہا لیکویڈیٹی کے اجراء کےذریعےعارضی ترقی کے بجائے پائیدار ترقی پر توجہ دینا ہوگی،سب سے پہلے میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بنانا ہے،کیونکہ مندی میں جانے کے بعد معیشت کو بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے
وزیرخزانہ نےکہا کہ ٹیکس ہدف کم ہونے کی صورت میں تو خبربن جاتی ہے،لیکن ٹیکس ہدف حاصل ہونے کو بھی اجاگر کیا جانا چاہیے، پاکستان کو اب نئی معیشت 2.0 میں قدم رکھنا ہوگا، نئی معیشت صرف کرپٹو تک محدود نہیں بلکہ اس کے دیگر بھی کئی پہلو ہیں۔
وزیر خزانہ نےمزید کہا حکومت کاکام پرائیویٹ سیکٹر کو بہترین ماحول فراہم کرنا ہے،پرائیویٹ سیکٹر نے ملک کو آگے لےکرجانا ہے،یہ حکومت کی ذمہ داری اور اس ذمہ داری کو پورا کرتے رہیں گے، ملک کی بڑی کاروباری کمپنیوں کو ملکرکام کرنا ہوگا،اپنا گھر اسکیم کے تحت 60 ارب روپے کا اجرا کیاجاچکا،بینکوں نے 340 ارب کے قرض منظورکیے۔
انہوں نے بتایا کہ ستمبرمیں اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ 25 ہزار نئے سرمایہ کار اکاؤنٹس کھولے گئے،جن میں زیادہ تر اکاؤنٹس جین زی کے ہیں، اسکے بعد مارکیٹ میں مجموعی اکاؤنٹس کی تعداد 6 لاکھ 56 ہزار ہو گئی ہے،ٹیکس فائلرزکی تعداد 5.7 ملین جوکہ گزشتہ سال 3.9ملین تھے، 45فیصد نئے فائلرز کی شمولیت ہوئی۔
