رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے فلائی دبئی کی پرواز 1073 کو ممکنہ طور پر مار گرانے کی تیاری کر لی تھی۔ اسرائیلی ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ طیارے کے اچانک نیچے جانے کے بعد اسرائیلی حکام کو اس میں ممکنہ ہائی جیکنگ کا خدشہ پیدا ہوا۔
ذرائع کے مطابق پرواز میں مسافر سوار تھے۔ طیارے کے کاک پائلٹ سے رابطہ نہ ہونے پر اسرائیلی فضائیہ نے ہنگامی پروٹوکول کے تحت کارروائی شروع کی۔
سی بی ایس نیوز سے بات کرنے والے اسرائیلی ذرائع کے مطابق طیارے کے اچانک نیچے کی طرف جانے کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے کاک پٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد ایک پہلے سے تشکیل شدہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ صورتحال کی نگرانی کے لیے کمانڈ سینٹر بھی قائم کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو پرواز کی جانب روانہ کیا گیا۔ اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب فلائی دبئی کی پرواز سعودی عرب کی سمت مڑ گئی۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے بھی اپنے لڑاکا طیارے فضا میں بھیج دیے تھے۔ اس کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں کو واپس بلا لیا گیا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق اگر پرواز مزید قریب آتی تو اسرائیلی فضائیہ اردن کی فضائی حدود میں بھی طیارے بھیجنے پر غور کرتی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے پائلٹوں کو طیارے کے قریب جا کر بصری رابطہ قائم کرنے کی تیاری کی گئی تھی۔ اس کا مقصد طیارے کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔
اسرائیلی پائلٹ مسافروں والے حصے کا بھی جائزہ لینے کی کوشش کرتے۔ اس سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی تھی کہ مسافر معمول کے مطابق ہیں یا طیارے میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق جائزے کے بعد اسرائیلی فضائیہ اپنی کمیٹی کو صورتحال سے آگاہ کرتی۔
