ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو بے معنی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پالیسی میں مذاکرات کے بجائے دباؤ اور کارروائی شامل ہے۔
پزشکیان نے یہ بات تہران میں آرمینیا کے وزیر خارجہ ارارات مرزویان سے ملاقات کے دوران کہی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے واشنگٹن پر ایران میں اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا۔
پزشکیان نے کہا کہ جب بھی ایران مذاکرات کی میز پر آیا، اسے جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے مطابق مذاکرات کے بعد ایران پر تین مرتبہ حملے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکا مذاکرات اور مکالمے میں سنجیدہ دلچسپی نہیں رکھتا۔
ایرانی صدر نے امریکا پر پابندیوں، دباؤ، دھمکیوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق ایسے فریق سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں جو اپنے وعدے پورے نہ کرے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی خطے کی صورتحال پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ قفقاز کو جغرافیائی سیاسی دشمنی کا میدان نہیں بننا چاہیے۔قالیباف کے مطابق خلیج فارس کی صورتحال سے یہ تجربہ سامنے آیا ہے کہ غیرعلاقائی طاقتوں کی مداخلت سے عدم تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے۔
آرمینیائی وزیر خارجہ ارارات مرزویان نے ملاقات میں علاقائی استحکام اور سکیورٹی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔آرمینیائی وزارت خارجہ کے مطابق مرزویان نے صدر پزشکیان کو علاقائی انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں TRIPP منصوبے پر بھی بات ہوئی۔
آرمینیائی حکام کے مطابق دونوں جانب نے علاقائی استحکام اور سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ تاہم، آرمینیائی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں ایران کے خلاف آرمینیائی سرزمین کے استعمال سے متعلق وہ تفصیلی جملہ شامل نہیں جو فراہم کردہ خبر میں بیان کیا گیا ہے۔ایران اور آرمینیا کے درمیان ٹرانسپورٹ، توانائی اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں پر بھی تعاون جاری ہے۔
