وائٹ ہاؤس کی تردید، ٹرمپ نے ایران کو امریکی شہروں کی تباہی کا مشورہ نہیں دیا

There are arguments for action against Iran, it would be better if Tehran makes a deal: White House

وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو تباہ کرنے کا مشورہ دیا۔یہ وضاحت ٹرمپ کے ایک بیان پر ڈیموکریٹس کی تنقید کے بعد سامنے آئی۔ ٹرمپ نے نیبراسکا میں وسط مدتی انتخابات کے سلسلے میں ایک ریلی سے خطاب کیا تھا۔

ریلی کے دوران ٹرمپ نے ایران جنگ اور تیل کی قیمتوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی بلند قیمتیں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی قیمت کے مقابلے میں معمولی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ قیمت کچھ زیادہ ہے۔ ان کے مطابق دنیا اور امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ معمولی قیمت ہے۔ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی شہروں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے بیان پر ڈیموکریٹس نے شدید اعتراض کیا۔

کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیا۔ انہوں نے امریکی صدر پر خطرناک اور غیر متوازن ہونے کا الزام عائد کیا۔امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے بھی بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی امریکی شہر کی جوہری تباہی مذاق کا معاملہ نہیں۔ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کے بیان کو ایران کے خلاف جنگ سے جوڑا۔ ان کے مطابق صدر کے الفاظ انتہائی تشویشناک ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ حکام کے مطابق ٹرمپ ایران کی جانب سے لاحق ممکنہ خطرے کا ذکر کر رہے تھے۔وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات اسٹیون چیونگ نے بھی وضاحت دی۔ انہوں نے کہا کہ صدر کا مؤقف ایران کے جوہری پروگرام سے لاحق خطرے کے بارے میں تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ریپڈ رسپانس اکاؤنٹ نے بھی میڈیا رپورٹس پر اعتراض کیا۔ اکاؤنٹ کے مطابق ٹرمپ نے امریکی شہروں کو تباہ کرنے کی تجویز نہیں دی۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ یہ کہہ رہے تھے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری ہے۔ اس کے مطابق ایران کو ایسا ہتھیار حاصل ہونے کی صورت میں امریکی شہروں کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل مختلف ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ریپبلکن جماعت کو ایران جنگ اور مہنگائی پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ پارٹی کو خدشہ ہے کہ ووٹرز کی ناراضی کانگریس میں اس کی پوزیشن متاثر کر سکتی ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے