سابق جرمن انٹیلی جنس سربراہ آگسٹ ہیننگ جاسوسی کے الزام میں گرفتار

جرمنی کے سابق خفیہ ادارے کے سربراہ آگسٹ ہیننگ کو جاسوسی اور غداری کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جرمن وفاقی پراسیکیوٹرز کے مطابق ان کے خلاف سنگین الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔

80 سالہ آگسٹ ہیننگ نے 1998 سے 2005 تک جرمنی کی وفاقی انٹیلی جنس سروس بی این ڈی کی قیادت کی۔ ان کے سابق چیف آف اسٹاف مینفرڈ ڈی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

جرمن استغاثہ کے مطابق ہیننگ اور مینفرڈ ڈی نے 2010 میں ایک انتظام کیا تھا۔ اس کے تحت مینفرڈ ڈی مبینہ طور پر رقم کے عوض بی این ڈی کی حساس معلومات ہیننگ کو فراہم کرتے رہے۔

تفتیش کاروں کے مطابق جون 2022 تک ہیننگ کو تقریباً 2 ہزار دستاویزات فراہم کی گئیں۔ ان میں متعدد دستاویزات خفیہ تھیں اور صرف بی این ڈی کے اندرونی استعمال کے لیے تھیں۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان معلومات میں اعلیٰ سطح کی انٹیلی جنس بریفنگز بھی شامل تھیں۔ یہ بریفنگز جرمن حکام اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ افسران کے لیے تیار کی جاتی تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ہیننگ نے حساس معلومات کی مدد سے ایک غیر ملکی انٹیلی جنس اہلکار کے لیے تجزیہ بھی تیار کیا۔استغاثہ نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ ہیننگ پر کس غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام کرنے کا شبہ ہے۔ جرمن حکام نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ تیار کردہ تجزیہ مطلوبہ فریق تک پہنچا یا نہیں۔

جرمن میڈیا میں آذربائیجان سے ممکنہ تعلق کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ تاہم آذربائیجانی حکام نے ان الزامات اور کسی بھی مداخلت کی تردید کی ہے۔ ہیننگ کے وکیل نے بھی الزامات مسترد کیے ہیں۔

یہ معاملہ جرمنی کے انٹیلی جنس نظام میں تشویش کا باعث بنا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حساس معلومات کے افشا سے جرمنی اور اس کے غیر ملکی انٹیلی جنس شراکت داروں کے درمیان اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔

ہیننگ کی گرفتاری جرمنی میں سرد جنگ کے بعد سامنے آنے والے بڑے جاسوسی مقدمات میں شمار کی جا رہی ہے۔ تاہم حکام نے مقدمے کی مکمل نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے