فرانس کے سائنسدان ہنری بی کاغان اور جاپان کے سائنسدان کینسو سوئی نے کیمیا کا نوبیل انعام جیت لیا ہے۔رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے دونوں سائنسدانوں کو 2026 کے نوبیل انعام برائے کیمیا کا مشترکہ حقدار قرار دیا۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق دونوں سائنسدانوں نے کیمیائی مالیکیولز کی ساخت سے متعلق اہم مسئلہ حل کیا۔بعض مالیکیولز ایک دوسرے کی آئینہ نما شکل رکھتے ہیں۔ انہیں ایسے سمجھا جاسکتا ہے جیسے دایاں اور بایاں ہاتھ۔ان مالیکیولز کی دونوں شکلیں جسم میں مختلف اثرات پیدا کرسکتی ہیں۔ اسی لیے مطلوبہ شکل تیار کرنا طب اور کیمسٹری میں اہم ہے۔
ہنری کاغان اور کینسو سوئی کی تحقیق ادویات کی تیاری میں اہم کردار رکھتی ہے۔ان کے کام سے کیمیائی ردعمل کو ایک مخصوص مالیکیولر شکل بنانے کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ اس پیش رفت سے دواسازی کے لیے زیادہ مؤثر کیمیائی مرکبات تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق اس تحقیق نے اس سوال کو سمجھنے میں مدد دی کہ جانداروں میں مالیکیولز کی ایک آئینہ نما شکل کیوں غالب رہتی ہے۔ اس مظہر کو ہوموکائیرلٹی (Homochirality) کہا جاتا ہے۔
ہنری کاغان نے 1980 کی دہائی میں ایسے تجربات کیے جن سے ایک مخصوص مالیکیولر شکل کی مقدار بڑھانے کا طریقہ سامنے آیا۔کینسو سوئی نے بعد میں اس تحقیق کو مزید آگے بڑھایا۔ انہوں نے ایسا کیمیائی ردعمل تیار کیا جس میں ایک مالیکیول اپنی ہی ساخت کے مزید مالیکیولز بننے میں مدد دیتا ہے۔دونوں سائنسدانوں کو مجموعی طور پر 12 ملین سویڈش کرونا کی انعامی رقم ملے گی۔ یہ رقم دونوں میں برابر تقسیم ہوگی۔
