بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانیوالی ترسیلاتِ زر مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں 10.88 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد وشمارکے مطابق ستمبر میں ترسیلاتِ زر کاحجم 3.59 ارب ڈالررہا، جو اگست کے 3.66 ارب ڈالر کے مقابلے میں 1۔9 فیصدکم، تاہم گزشتہ سال ستمبرکے 3.18 ارب ڈالرکے مقابلے میں 12۔7 فیصد زیادہ ہے۔
جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ترسیلاتِ زرکامجموعی حجم 10.88 ارب ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ رقم 9.54 ارب ڈالر تھی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی تینوں مہینوں میں ترسیلاتِ زر 3.5 ارب ڈالرسے زیادہ رہیں۔
جولائی میں3.63 ارب ڈالر، اگست میں 3.66 ارب ڈالر اورستمبر میں 3.59 ارب ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔اس طرح پہلی سہ ماہی میں ماہانہ اوسط ترسیلاتِ زر تقریباً 3.63 ارب ڈالررہیں، جوگزشتہ مالی سال کی اوسط 3.465 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔
موجودہ رفتار برقراررہنے کی صورت میں سالانہ ترسیلاتِ زر تقریباً 43۔5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ حجم 41۔6 ارب ڈالر رہا تھا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پیشگوئی کی ہے کہ مالی سال 2027 میں ترسیلاتِ زر 44۔7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں،تاہم ماہانہ بنیادوں پر ترسیلاتِ زرکی رفتارمیں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
ستمبر میں سالانہ شرح نمو 12۔7 فیصد رہی،جبکہ اگست میں یہ 16۔5 فیصداور جولائی میں 12۔9 فیصد تھی۔ رواں سال مئی میں ترسیلاتِ زر 4۔25 ارب ڈالرکی بلندترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ستمبرکے دوران سعودی عرب سے پاکستان بھیجی جانیوالی رقوم 899۔1 ملین ڈالر رہیں،جو اگست کے مقابلے میں 2۔9 فیصداورگزشتہ سال ستمبرکے مقابلے میں 19۔7 فیصد زیادہ ہیں۔
سعودی عرب بدستور ترسیلاتِ زرکاسب سے بڑاذریعہ رہا،دیگر خلیجی تعاون کونسل ممالک سے ترسیلاتِ زر میں بھی ماہانہ بنیادوں پر 4۔7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 342۔1 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
عمان،قطر اورکویت سے بھی رقوم کی آمد میں اضافہ ریکارڈکیاگیا۔ عرب امارات سے ترسیلاتِ زر تقریباً مستحکم رہیں اور ستمبر میں 748۔5 ملین ڈالر رہیں، جو اگست کے مقابلے میں 0۔2 فیصد کم، لیکن سالانہ بنیادوں پر 10۔5 فیصد زیادہ ہیں۔اس کے برعکس برطانیہ اور یورپی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں کمی ریکارڈکی گئی۔
