وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن وامان کو بحال کرناہے، جتھے کو کوئی صوبائی تحفظ حاصل نہیں، پرامن منتشر ہوجائیں۔
اسلام آباد میں وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن وامان کیلئے جسے ضروری ہوا حفاظتی تحویل میں لیں گے، جومطلوب ہیں ان کو گرفتار کیا جائے، پکڑے جانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے۔
محسن نقوی نے کہاکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوئے، مذاکراتی مسودے کو چار مرتبہ حتمی شکل دی گئی اور پی ٹی آئی کی جانب سے نشاندہی کی گئی 5 سے 6 ترامیم بھی قبول کرلی گئیں، تاہم مسودے پر اتفاق ہونے کے بعد اچانک ایک نیا ڈرافٹ سامنے آگیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات 15 یا 16 ستمبر کو طے کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حکومت چاہتی تھی کہ وزیراعظم کے بیرون ملک روانہ ہونے سے قبل اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرا کر صورتحال معمول پر لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے پر بھی بات چیت ہوئی تھی، جس کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات ہوئی اور مذاکراتی کمیٹی قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کے ذریعے پی ٹی آئی کے ساتھ دو روز تک مذاکرات جاری رہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا حکومت کو بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں شامل کرنے پر زور دیا گیا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران مجوزہ مسودے کو چار مرتبہ حتمی شکل دی گئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 5 سے 6 ترامیم کی نشاندہی کی گئی، جنہیں حکومت نے قبول کرلیا، تاہم تمام نکات پر اتفاق ہونے کے بعد اچانک ایک نیا مسودہ سامنے آگیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مذاکراتی ٹیم کو پہلے ہی طے شدہ معاملات کی منظوری دے رکھی تھی، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ رات 12 بجے تک رابطہ بھی برقرار رہا۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مجوزہ مسودے کے ایک پیراگراف پر پی ٹی آئی سے تجاویز مانگی گئیں، لیکن اس حوالے سے کوئی جواب نہیں ملا، حالانکہ مسودے کے باقی تمام نکات پر پی ٹی آئی کو اتفاق تھا۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران پیش آنے والے تمام معاملات اور تفصیلات کی تصدیق پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے بھی کی جاسکتی ہے
