اسلام آباد : مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور، رانا ثناء اللہ نےکہا ہےکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پریشر پر تو ہم کوئی کام نہیں کریں گے،اگر مداخلت کی گئی تو اپنی خود مختاری میں مداخلت تصور کریں گے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ امریکا عافیہ صدیقی کو رہا کرے تو ہم بانی پی ٹی آئی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔حکومت کو قطعاًکوئی گھبراہٹ نہیں۔
مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور، رانا ثناء اللہ نےکہا کہ پی ٹی آئی اگر ٹائم فریم مقرر کرنا چاہے گی تو بالکل ہوجائے گا۔ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ہم ان کی تمام ڈیمانڈز سے متفق ہوں یا وہ ہماری ڈیمانڈز پر متفق ہوں ۔ہماری طرف سے ایسا معاملہ نہیں کہ فوری میٹنگز کریں۔اگرپی ٹی آئی جلد کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتی ہے تو ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی
انہوں نے کہا کہ ۔انڈر ٹرائل ملزمان کی رہائی کس طرح سے ہو؟حکومت نے تمام کام آئین و قانون کے تحت ہی کرنے ہیں۔ملزم اگر ٹرائل کا سامنا کررہا اور جوڈیشل تحویل میں ہے تو حکومت کیسے رہا کرسکتی ہے۔پہلی میٹنگ میں زبانی باتیں ہوئی ہیں۔ ہم نے کہا کہ تحریری طور پر مطالبات دیں قانون کے مطابق جواب دیں گے۔ کرمنل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ایک جرم ہوا ہے کرمنل ایکٹ ہوا ہے اس پر ایف آئی آر ہوتی ہے تحقیقات ہوتی ہے۔انویسٹی گیشن سپریم کورٹ کے ججز نہیں کرتے۔ تحقیقات پولیس اور دیگر نے کرنی ہوتی ہے۔
رانا ثناءاللہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پریشر پر تو ہم کوئی کام نہیں کریں گے۔اگر مداخلت کی گئی تو اپنی خود مختاری میں مداخلت تصور کریں گے۔اس قسم کے ٹوئٹس اور بیانات پر توہم کام کرنے والے نہیں ہیں۔حزب اختلاف اور حزب اقتدار میں باہمی سطح پر بات چیت ہونی چاہئے۔ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے مذاکرات شروع نہیں کئے۔
انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی بھی تو امریکا میں ایک عرصے سے قید ہیں ہم بھی یہ ایشو اٹھائیں گے۔امریکا عافیہ صدیقی کو رہا کرے تو ہم بانی پی ٹی آئی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔حکومت کو قطعاًکوئی گھبراہٹ نہیں، وزیراعظم نے دو ٹوک کہا کہ اپنی خود مختاری کا دفاع کریں گے۔