یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کی افواج نے شمالی کوریا کے دو فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے جو متنازعہ کرسک سرحدی علاقے میں روسی افواج کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے۔ یہ گرفتاری یوکرین کی جانب سے حالیہ حملے کے دوران کی گئی، جو تنازعے کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
گرفتار فوجی زخمی حالت میں تھے اور انہیں کیف منتقل کر دیا گیا ہے۔صدر زیلنسکی نے ان فوجیوں کو زندہ پکڑنے کی اہمیت پر زور دیا اور روس و شمالی کوریا پر الزام لگایا کہ وہ زخمی فوجیوں کو ہلاک کر کے اپنی شمولیت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
- شمالی کوریا کی شمولیت
- یوکرینی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 10,000 سے 12,000 شمالی کوریائی فوجی روسی افواج کے ساتھ لڑ رہے ہیں، جن میں سے 200 سے زیادہ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
- گرفتار شدگان میں سے ایک کے پاس روسی فوجی شناختی کارڈ تھا، جو منگولیا کی سرحد کے قریب تووا کے علاقے سے جاری کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا شناختی دستاویزات سے محروم تھا۔
- بین الاقوامی تصدیق
- وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا کی افواج روسی یونٹس کے ساتھ فرنٹ لائن پر کام کر رہی ہیں۔
- ان کی شمولیت زیادہ تر انفنٹری کرداروں میں ہے، اور کچھ یونٹس آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
- قیدیوں کا بیان
- زیرِ حراست ایک فوجی نے دعویٰ کیا کہ اسے تربیت کے بہانے روس بھیجا گیا تھا اور وہ لاعلم تھا کہ اسے یوکرین کے خلاف جنگ میں بھیجا جائے گا۔