اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ انتہائی قریب پہنچ گیا، اس حوالے سے غزہ میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی رہائی اور ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے پر قطر میں بات چیت جاری ہے۔۔۔۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں غزہ جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات میں رات گئے مثبت پیش رفت ہوئی جس کے بعد قطر نے معاہدے کا حتمی مسودہ اسرائیلی حکام اور حماس کے حوالے کردیا۔۔۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔۔۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ رہائی ہونے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد کا تعین زندہ اور مردہ قیدیوں کی تعداد جاننے کے بعد کیا جائے گا۔
امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اچانک اسرائیل کے دورے پر یہ پیغام لے کر پہنچے ہیں کہ 20 جنوری کو حلف برداری سے قبل ایک معاہدہ طے پاجانا چاہیے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس نے موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک وفد کی قیادت کریں جو دوحہ روانہ ہو جائے تاکہ ہمارے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈیوڈ برنیا اور ان کا وفد قطر کب پہنچے گا۔
اسرائیلی حکام نے کہا کہ انہیں اب تک مسودہ نہیں ملا تاہم معاہدے کا خاکہ واضح ہے اور اگر حماس جلد جواب دیتی ہے تو باقی چیزیں بھی جلد فائنل ہوجائیں گی۔
اس حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہےجو پہلے سے بہتر ہےاور مجھے امید ہے جلد ہی ہم کچھ چیزیں ہوتے دیکھیں گے۔