اسلام آباد: فنانس بل کے مطابق تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کر دی گئی ہے جبکہ مختلف آمدنی کے درجوں کیلئے نئی ٹیکس شرحیں تجویز کی گئی ہیں۔
سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن
سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔
6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن
6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے ٹیکس کی شرح ایک فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ٹیکس 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے حصے پر لاگو ہوگا۔
12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن
12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 11 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 6 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔
22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن
22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے 20 فیصد ٹیکس کی شرح مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سلیب میں ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی شامل ہوگا۔
32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن
32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہوگا جبکہ 3 لاکھ 16 ہزار روپے فکس ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن
41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے 29 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔
56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن
56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 32 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 9 لاکھ 76 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی دینا ہوگا۔
70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن
70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے 35 فیصد ٹیکس کی شرح تجویز کی گئی ہے۔ اس سلیب میں 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
