وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس۔۔۔۔ حکومت کا صنعتی ترقی کیلئے بڑا اقدام۔۔۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے خصوصی و صنعتی زونز (SEZs) صنعتی اسٹیٹس کیلئے یکساں ٹیرف کی منظوری دے دی۔۔۔اجلاس میں خصوصی صنعتی زونز (SEZs) و صنعتی اسٹیٹس کو بجلی فراہمی کا نیا نظام منظور کیا گیا۔۔۔۔
کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی نے آج پاور ڈویژن کی سمری پر انڈسٹریل اسٹیٹس اور اسپشل صنعتی زونز کو ایک پوائنٹ پر بجلی فراہمی اور انکے انتظامیہ کو خود کنکشن دینے، بل اکھٹا کرنے اور دیگر معاملات نمٹانے کی اجازت دے دی۔۔۔اس نظام کے تحت خصوصی صنعتی زونز و انڈسٹریل اسٹیٹس میں بجلی تقسیم کار کمپینیوں کے افسران کی مداخلت کو ختم کر دیا گیا
اجلاس کو بتایا گیا اس ضمن میں ایک مخصوص آپریشنز اینڈ مینجمنٹ میکینزم بنایا جارہا ہے۔۔۔ پاور ڈویژن اور نیپرا اس مکینزم پر آئندہ دو سے تین مہینوں میں عملدآمد شروع کردے گا۔۔۔نظام کے تحت زون ڈویلپر کو زونز میں موجود صنعتوں کو بجلی کی فراہمی کیلئے کوئی اضافی لائسنس درکار نہ ہوگا۔۔۔اس نظام کے تحت صنعتوں کو یکساں ٹیرف کی بدولت مسابقت میں آسانی ہوگی، صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا
وزیرِاعظم کی نئے نظام کا اطلاق تمام خصوصی صنعتی زونز پر کرنے کی ہدایت۔۔۔ملکی ترقی کیلئے صنعتی ترقی کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔۔۔
وزیراعظم نے کہا صنعتوں کو یکسان ٹیرف پر بجلی کی فراہمی سے ملکی صنعتی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔۔۔۔صنعتوں کا پہیہ چلنے سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونگے، برآمدات میں اضافہ ہوگا۔۔۔۔خصوصی صنعتی زونز کو بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری سے صنعتیں معیشت کی مزید ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گی۔۔۔
اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے جولائی تا نومبر 2024 کی گردشی قرضے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی.۔۔۔ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں گزشتہ مالی سال کی نسبت رواں مالی سال گردشی قرضے میں اضافے کی بجائے کمی آئی ہے۔۔۔
جولائی تا نومبر 2023 میں گردشی قرضے میں 368 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا جبکہ 2024 میں پہلے پانچ ماہ میں گردشی قرضے میں کسی بھی قسم کے اضافے کی بجائے 12 ارب روپے کی کمی آئی۔۔۔۔وزیراعظم کو بتایا گیا مالی سال کے اختتام پر گزشتہ مالی سال کی نسبت گردشی قرضے میں مجموعی طور پر 380 ارب روپے کی بہتری آئی ہے۔۔۔۔
4 فیصد اضافے کے بعد رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں بجلی شعبے کی وصولیاں 96 فیصد پر پہنچ گئیں۔۔۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بہتری کے بعد نقصانات کی مد میں 53 ارب روپے کی کمی آئی۔۔۔بجلی کی مجموعی پر قیمت میں رواں مالی سال 4.64 روپے کی کمی کی گئی جو کہ اصلاحات کے بعد ممکن ہوا
وزیراعظم نے کہا بجلی شعبے کی اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے جس کے ثمرات آنے کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔عوام کو کم لاگت، ماحول دوست اور تسلسل سے بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔۔۔۔آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی سے بجلی کی صارفین کیلئے لاگت کو مزید کم کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔۔۔۔
اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک، معاون خصوصی محمد علی، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.