امریکا کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا منصوبہ

امریکا نے پاکستان سمیت تقریباً 60 ممالک اور معاشی خطوں کو نشانہ بناتے ہوئے نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ امریکی تجارتی نمائندہ دفتر (USTR) کے مطابق یہ اقدام ان ممالک کے خلاف تجارتی کارروائیوں کا حصہ ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ وہ جبری مشقت سے منسلک مصنوعات کی درآمدات کو مؤثر انداز میں روکنے یا ان پر پابندیوں کا نفاذ یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز کو عوامی مشاورت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مختلف تجارتی شراکت داروں کے خلاف کی گئی تحقیقات میں یہ جائزہ لیا گیا کہ آیا متعلقہ ممالک جبری مشقت کے ذریعے تیار کی جانے والی مصنوعات کے خلاف مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے مناسب نفاذ نہ ہونا امریکی صنعت اور مزدوروں کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایسے حالات کو مزید برداشت نہیں کرے گا جن کے باعث عالمی منڈیوں میں جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی گردش جاری رہے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت پاکستان، کینیڈا، میکسیکو اور یورپی یونین سمیت بعض ممالک کی درآمدات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر نشاندہی شدہ ممالک پر 12.5 فیصد یا اس سے زائد ڈیوٹی لاگو ہونے کا امکان ہے۔

تاہم امریکی حکام نے بعض اشیاء کو اس مجوزہ اقدام سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور گری دار میوے شامل ہیں۔ اسی طرح شمالی امریکا کے تجارتی معاہدوں کے تحت آنے والی مخصوص مصنوعات اور بعض ٹیکسٹائل و ملبوساتی اشیاء کو بھی ممکنہ طور پر رعایت حاصل ہوگی۔

امریکی تجارتی نمائندہ دفتر نے متاثرہ ممالک اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو 6 جولائی تک اپنی آراء اور تحریری تجاویز جمع کرانے کی دعوت دی ہے، جس کے بعد عوامی سماعت منعقد کی جائے گی اور پھر حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے