غزہ میں جنگ بندی کا آغاز اتوار کو مقامی وقت کے مطابق 11:15 بجے (0915 GMT) پر ہوا، حالانکہ یہ تقریباً تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی۔ تاخیر کی وجہ حماس کی جانب سے یرغمالیوں کے ناموں کی فراہمی میں "تکنیکی وجوہات” بتائی گئی۔
یرغمالیوں کی رہائی اور پیش رفت
- اسرائیلی میڈیا کے مطابق، حماس کے زیر حراست تین افراد کو رہا کیا جانا ہے، جن میں رومی گونن شامل ہیں۔
- گونن کو جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک میوزک فیسٹیول سے اغوا کیا گیا تھا۔
- ان کے بھائی نے سوشل میڈیا پر ان کی رہائی کی تصدیق کی۔
- اسرائیل نے حماس کی فراہم کردہ فہرست میں شامل دیگر یرغمالیوں کے ناموں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
معاہدے کی اہم تفصیلات
- جنگ بندی کے تحت حماس اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے زیر حراست افراد کی رہائی پر اتفاق کیا ہے۔
- حماس اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جن میں سے تین کی رہائی کی تصدیق ہو چکی ہے۔
- اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔
- یہ معاہدہ امریکہ، قطر، اور مصر کی ثالثی کے ذریعے کئی ماہ کی بات چیت کے بعد ممکن ہوا۔
پس منظر
یہ جنگ بندی اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ کی شدید لڑائی کے بعد ہوئی۔
- 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں تقریباً 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 250 افراد یرغمال بنائے گئے۔
- اسرائیل کے جوابی حملوں میں 46,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔