وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا فاروق کی زیر صدارت پولیو جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں حالیہ انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
نیشنل ای او سی کے مطابق ملک کے 79 اضلاع میں ایک کروڑ 86 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 10 مخصوص اضلاع میں 60 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی، جبکہ سندھ کے 20 مخصوص اضلاع میں 57 لاکھ 40 ہزار بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلائے گئے۔
اسی طرح خیبرپختونخوا کے 23 مخصوص اضلاع میں 43 لاکھ 90 ہزار سے زائد بچوں کو انسداد پولیو ویکسین دی گئی، جبکہ بلوچستان کے 25 مخصوص اضلاع میں 19 لاکھ 60 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
نیشنل ای او سی کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تقریباً 4 لاکھ 35 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کی کامیابی پولیو ورکرز کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے مسلسل اور اعلیٰ معیار کی ویکسینیشن مہمات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ 5 سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی مکمل تکمیل بھی ان کے جامع اور مؤثر تحفظ کیلئے ضروری ہے۔
نیشنل ای او سی کے مطابق گھروں پر عدم دستیابی کے باعث 2.1 فیصد بچے پولیو ویکسین سے محروم رہ گئے تھے، تاہم بعد ازاں بڑے پیمانے پر فالو اپ سرگرمیاں انجام دی گئیں۔
ادارے کے مطابق فالو اپ مہم کے ذریعے ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں میں سے 88 فیصد تک کامیابی کے ساتھ رسائی حاصل کر لی گئی۔
