نیتن یاہو کی وارننگ: "حماس کی خلاف ورزی کی صورت میں غزہ کو دوبارہ خالی کر دیں گے

0

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسرائیل غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کرے گا اور بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا عمل جاری ہے اور خطے میں جنگ بندی برقرار ہے۔ تاہم، اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ اگر حماس نے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی تو تل ابیب فوجی کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

حماس کے خلاف سخت اقدامات کی تیاری

اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان عمر دوستی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہمارا حتمی مقصد غزہ میں حماس کی موجودگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ اسرائیلی حکومت خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حماس ہتھیار ڈال دے اور محفوظ راہداری کے ذریعے غزہ سے نکل جائے تو اسرائیل مستقل جنگ بندی کے لیے تیار ہے، تاہم اگر ایسا نہیں ہوا تو دوبارہ فوجی کارروائی ناگزیر ہو گی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، اگر حماس معاہدے کی پاسداری نہیں کرتی تو غزہ کے شہریوں کو دوبارہ نقل مکانی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔عمر دوستی نے کہا کہ "پہلی جنگ بندی کے بعد کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو دوبارہ فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کریں گے، لیکن ہم نے رفح میں قدم رکھا۔ اگر حماس خلاف ورزی کرتی ہے تو ہم دوبارہ کارروائی کریں گے اور بڑے پیمانے پر انخلاء یقینی بنائیں گے۔”

اسرائیلی حکومت کو اس بات کی بھی تشویش ہے کہ حماس اپنے پاس قیدیوں کو مذاکرات کے لیے بطور دباؤ استعمال کر سکتی ہے۔ ترجمان کے مطابق، "یہ معاہدہ ناکام نہیں ہے، لیکن یہ مکمل طور پر کامیاب بھی نہیں۔ اس کے بدلے میں ہمیں ایک قیمت چکانی پڑی ہے۔”

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.