اسرائیلی عوام کی اکثریت جنگ بندی کے حق میں، نئے تنازعے کی مخالفت: سروے
اسرائیل کے قومی نشریاتی ادارے "کان” کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین عوامی سروے کے مطابق، اسرائیلیوں کی اکثریت غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مذاکرات جاری رکھنے کو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر ترجیح دے رہی ہے۔
600 اسرائیلی شہریوں سے کیے گئے سروے میں عوامی رائے جاننے کے لیے یہ سوال پوچھا گیا کہ "کیا اسرائیل کو جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانا چاہیے اور جنگ ختم کرنی چاہیے، یا اسے تمام یرغمالیوں کی رہائی سے قبل لڑائی دوبارہ شروع کرنی چاہیے؟”
🔹 61% نے جنگ بندی اور مذاکرات کے حق میں رائے دی۔
🔹 18% نے غزہ میں فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کی۔
🔹 21% نے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
سروے کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیلی عوام کی اکثریت ایک طویل اور تباہ کن تنازعے کے بجائے سفارتی راستے کو ترجیح دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رائے اسرائیلی قیادت کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ آئندہ کی پالیسیوں پر غور کر رہے ہیں۔
حالیہ جنگ بندی، جس میں قطر اور مصر ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا سبب بنی ہے۔ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی امید اگلے ہفتے دوحہ میں کی جا رہی ہے، جہاں فریقین ایک طویل مدتی حل پر غور کریں گے۔