اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کی افزائش اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں کے حوالے سے رپورٹ جاری کر دی۔۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دو درجن سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں۔۔۔یہ گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔۔
افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی ،،، اقوا م متحدہ نے بھی مہرتصدیق ثبت کر دی،،، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کنڑ، ننگرہار، خوست، اور پکتیکا میں نئے تربیتی مراکز قائم کرنے کا ا نکشاف
اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دو درجن سے زیادہ دہشت گرد گروہ کام کر رہے ہیں جو افغانستان سے باہر بھی عدم استحکام کا ایک مسلسل محرک ہیں
افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی نے ملک میں عدم استحکام کے ساتھ پڑوسی ریاستوں کی سلامتی کے لئے بھی سنگین خطرات پیدا کر دئیے ہیں
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف ٹی ٹی پی کے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں کی تعداد 600 سے زائد ہے
افغان طالبان نے فتنتہ الخوارج کو لاجسٹک اور آپریشنل مدد فراہم کرنے کے ساتھ مالی معاونت بھی جاری رکھی ہے۔کالعدم ٹی ٹی پی، افغان طالبان اور القاعدہ کے درمیان تحریک جہاد پاکستان کے بینر تلے تعاون میں اضافے کی بھی اطلاعات ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے موسم گرما میں ایک کارروائی کے دوران داعش خراسان کے ہائی پروفائل ارکان کو گرفتار کرکے گروپ کو بڑھا دھچکا پہنچایا، ان میں ا فغان شہری عادل پنجشیری ، ابو منذر اورکاکا یونس شامل تھے۔۔۔