امریکی وفاقی جج جیمز بواسبرگ نے وینزویلا کے گینگ کے مبینہ ارکان کی فوری ملک بدری کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ 1798 کے ایلین اینیمیز ایکٹ کے نفاذ کو روکنے کے لیے دیا گیا، جو عام طور پر جنگ کے وقت کے لیے مخصوص قانون ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے بدنام زمانہ ٹرین ڈی آراگوا گینگ کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ گینگ کی موجودگی امریکہ میں تشدد بڑھا رہی ہے، اور ان افراد کو فوری طور پر ملک سے نکالنا ضروری ہے۔
جج بواسبرگ کے حکم کے مطابق، تمام مجوزہ ملک بدریاں 14 دنوں کے لیے معطل کر دی گئی ہیں، اور ان افراد کو لے جانے والی پروازوں کو امریکی سرزمین پر واپس آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) اور ڈیموکریسی فارورڈ سمیت کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتظامیہ کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔
وینزویلا کے پانچ شہریوں نے عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور تارکین وطن کے لیے قانونی تحفظات کو نظرانداز کرتا ہے۔ جج بواسبرگ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امیگریشن قوانین کو جنگ کے وقت کے قوانین سے جوڑنا غیر قانونی ہے اور اس معاملے پر مزید قانونی جائزہ لیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ صدر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امریکی عوام کو پرتشدد گروہوں سے محفوظ رکھیں۔
دوسری جانب، امیگریشن کے حامیوں اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے فیصلے کو قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی جیت قرار دیا۔ ڈیموکریٹک رکن جوکین کاسترو نے کہا، کہ "تارکین وطن کے خلاف جنگ کے وقت کے قوانین کو ہتھیار بنانا غیر قانونی ہے، اور عدالت نے واضح کر دیا کہ صدر قانون سے بالاتر نہیں ہے۔”
