سوڈانی فوج کی صدارتی محل کی جانب پیش قدمی، شدید جھڑپیں جاری
سوڈانی فوج نے دارالحکومت خرطوم میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے خلاف بڑے حملے شروع کر دیے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، فوج صدارتی محل کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے، جو کہ جاری تنازعہ میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
بدھ کی رات دارالحکومت شدید جھڑپوں اور دھماکوں سے لرز اٹھا، جب فوج نے RSF کے مضبوط ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی حملے تیز کر دیے۔
عینی شاہدین نے وسطی خرطوم میں توپ خانے کی گولہ باری اور شدید فائرنگ کی اطلاع دی، جبکہ فوج نے کئی اسٹریٹجک مقامات پر دوبارہ قبضے کی کوششیں کیں۔
صدارتی محل کی جنگ: کون کس پر حاوی؟
سوڈانی فوج – فضائی برتری اور توپ خانے کے حملوں کی مدد سے خرطوم کے وسطی علاقے میں کامیاب پیش قدمی کر رہی ہے۔
ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) – مغربی سوڈان اور خرطوم کے کئی حصوں پر قابض، مگر وسطی سوڈان میں فوجی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
تنازعے کی شدت اور بڑھتا ہوا انسانی بحران
یہ تنازعہ اپریل 2023 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا، جب 2021 کی بغاوت میں متحد ہونے والے فوجی دھڑے آپس میں برسرپیکار ہو گئے۔
لڑائی کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، اور انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیاں رپورٹ کی جا رہی ہیں۔
خرطوم کے شہری مسلسل حملوں کی زد میں ہیں، جبکہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔