جنوبی کوریا میں بارانِ رحمت ۔۔۔۔ تاریخ کی بدترین آگ بجھ گئی۔۔ 26 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی۔۔
بارش شروع ہوتے ہی فائر فائٹرز کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔۔ حکومتی وزراء اور اپوزیشن رہنماؤں نے آگ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا۔
آگ نے جنوبی کوریا کے 70 فیصد جنگلات کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔۔
مرنے والوں میں زیادہ تعداد بزرگ شہریوں کی ہے جن کی عمریں 60 سے 70 سال کے درمیان تھیں۔۔ 36 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 12 کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
جنوبی کوریا کے قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے کہا ہے کہ یہ صورتحال "انتہائی غیر معمولی” ہے اور یہ ملک کی تاریخ کی سب سے خوفناک آگ بن چکی ہے۔
یہ آگ سب سے پہلےگذشتہ جمعہ کے دن سانچونگ کاؤنٹی میں لگی اور پھر تیز اور خشک ہوا کے باعث یہ آگ اردگرد کے شہروں میں پھیل گئی۔ اس نے کئی علاقوں جیسے اندونگ، چیونگ سونگ، یونگ یانگ اور یونگ ڈوک تک بھی پھیلنا شروع کر دیا ہے۔
ایک جنگلاتی ماہر نے کہا کہ یہ آگ ایسے پھیل رہی ہے جیسے کبھی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔
لوگوں نے بتایا کہ یہ منظر ایسا تھا جیسے قیامت آ گئی ہو۔ ایک ٹرک ڈرائیور نے کہا کہ پہاڑ جل رہے تھے جیسے "جہنم” کی آگ ہو۔
اب تک تقریباً 37000 ہیکٹر (81ہزار ایکڑ) جنگل جل چکے ہیں۔