میانمار میں زلزلہ ، ہلاکتوں کی تعداد 838 ہوگئی، سینکڑوں زخمی، مسجد بھی شہید

0

رنگون : میانمار میں جمعے کے روز آنے والے7.7 شدت کے زلزلےکے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 834 ہوگئی ہے۔ 732 زخمی ہیں۔ سینکڑوں افراد ملبے تلے دبے ہیں۔ میانمار میں زلزلے سے مسجد بھی شہید ہوگئی۔ دوسری جانب تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں زلزلے کے مرکز سے سینکڑوں میل دور ایک زیرِ تعمیر عمارت کے گرنے سے وہاں کام کرنے والے 100 مزدور لاپتا ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز میانمار کے شہر ساگانگ سے 16 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔

یہ میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے کے قریب ہے، جس کی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے اور دارالحکومت نی پی تو سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں ہے۔

بی بی سی برما کی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار میانمار کے فوجی رہنما من آنگ ہلائینگ کی جانب سے سامنے آئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار میں اضافے کا خدشہ ہے۔

فوجی رہنما کا کہنا ہے کہ اب تک نئی پی تو نامی علاقے میں 96، سیگینگ میں 18 اور منڈلے میں 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فوجی اعداد و شمار کے مطابق زخمیوں میں سے 132 نئی پی تو اور 300 سگنگ میں تھے جبکہ دیگر علاقوں میں اب بھی ان کی تعداد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں زلزلے کے مرکز سے سینکڑوں میل دور ایک زیرِ تعمیر عمارت کے گرنے سے اس میں کام کرنے والے 100 مزدور لاپتہ ہیں۔بنکاک میٹروپولیٹن انتظامیہ کے مطابق اس حادثے میں اب تک کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سرکاری طور پر ہلاکتوں کے اعداد و شمار سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن منڈلے میں قائم ایک ریسکیو ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد ’کم از کم بھی ہوئی تو سینکڑوں میں ہوں گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس وقت صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کیونکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

میانمار جسے پہلے برما کے نام سے جانا جاتا تھا سے معلومات حاصل کرنا اس وقت انتہائی مُشکل کام ہے۔

میانمار میں سنہ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے فوجی حکومت قائم ہے جس کی وجہ سے معلومات تک رسائی میں مُشکلات کا سامنا ہے۔

ریاست یعنی فوجی حکومت تقریباً تمام مقامی ریڈیو، ٹیلی ویژن، پرنٹ اور آن لائن میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے اور میانمار میں انٹرنیٹ کا استعمال بھی محدود ہے۔

زلزلے کے بعد سے متاثرہ علاقوں میں موبائل نیٹ ورک خراب ہیں اور ہزاروں متاثرین بجلی کی بندش کی وجہ سے مُشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں بی بی سی کو بھی زمینی حقائق معلوم کرنے میں مُشکلات کا سامنا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.