کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کی جانب سے منگل کے روز بلوچستان میں شٹر ڈاؤن اور ہڑتال کی کال دی گئی تھی، جس کا مقصد بلوچ یکجہتی کمیٹی اور ماہ رنگ لانگو سے اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ تاہم، بلوچستان کے باشعور عوام نے اس ہڑتال کو مسترد کر دیا۔
اختر مینگل ایک طرف بلوچ عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے مگر اس کا اصل چہرہ اس کے مالی اثاثوں کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔اختر مینگل کے اثاثوں میں گزشتہ چند سالوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2020 میں اعلان کردہ اثاثوں کے مطابق، اس کے پاس بلوچستان کے ضلع خضدار میں جاتونی نمبر 1 سے 51، پی ایس 35، واہر واڈھا میں زرعی زمین موجود تھی، تاہم اس کی قیمت کا تعین نہیں کیا گیا تھا، جبکہ 2024 میں اس کی تخمینی مالیت 10 ملین روپے بتائی گئی ہے۔ اسی طرح، حب کے علاقے ساکران روڈ پر 300 ایکڑ زمین جو اس کے بیٹے گرگین کے نام ہے، 2020 میں 1.5 ملین روپے کی مالیت کے ساتھ ظاہر کی گئی تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 25.2 ملین روپے ہو گئی ہے۔
اختر مینگل کے کاروباری اثاثے بھی نمایاں حد تک بڑھے ہیں۔ 2020 میں ان کے کاروباری اثاثوں کی مالیت 2 ملین روپے ظاہر کی گئی تھی، جو 2024 میں 21.5 ملین روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس کی بیوی کے نام پر چاغی میں غیر تجارتی، صنعتی اور رہائشی جائیداد کی قیمت 2020 میں 450,000 روپے تھی، جو 2024 میں 20 ملین روپے ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ، اس نے 2020 میں دبئی میں ایک فلیٹ کی قیمت 11.95 ملین روپے ظاہر کی تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 286.95 ملین روپے تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح، 2020 میں ایڈوانس پیمنٹ پر لیے گئے اپارٹمنٹ نمبر 602 کی مالیت 8 ملین روپے تھی، جو 2024 میں 50 ملین روپے ہو گئی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار اس کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافے کو ظاہر کرتے ہیں، جو مختلف مالیاتی اور جائیدادی عوامل کے تحت ممکن ہوا ہے۔
اگر اختر مینگل کے بقایا اثاثہ جات کی بات کی جائے جن میں گاڑیاں، کیش، گھر، انویسٹمنٹ، قیمتی نوادرات اور دیگر اشیا شامل ہیں تو اختر مینگل کے 2020 میں اعلان کردہ اثاثوں کی کل قیمت 5.03 کروڑ روپے (50.32 ملین) تھی، جبکہ 2024 میں اس کے موجودہ اثاثوں کی تخمینی قیمت 36.18 کروڑ روپے (361.79 ملین) ہے، جس میں 31.15 کروڑ روپے (311.46 ملین)کا فرق ہے۔
ذرائع کے مطابق اختر مینگل کی کرپشن کا یہ عالم ہے کہ اس نے برطانیہ اور دبئی میں اپنے کاروبار اور اثاثہ کو ظاہر ہی نہیں کیا ہے، اختر مینگل برطانیہ میں ایک ہوٹل کا مالک جبکہ دبئی میں ایک بھی اس کا ایک ہوٹل اور اس کی ایک ٹریڈنگ کمپنی بھی ہے۔اختر مینگل کا اسلام آباد میں ڈائمنڈ مال اینڈ ریسیڈنسی میں ایک اپارٹمنٹ ہے جسے اس نے ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ منگھو پیر کراچی میں ایک عدد بنگلہ، خیابان شمشیر کراچی میں ایک عدد گھر،ریلوے سٹیشن کوئٹہ میں ایک عدد گھر، وڑھ خضدار میں ایک عدد گھر، شاہ نورانی خضدار میں 200 دکانیں، وڈھ خضدار میں ایک عدد دکان وغیرہ بھی اس نے اپنی جائیدادوں میں ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ کاپر کانٹا،سیلین ایکسپورٹس میں شراکت داری، اے کے اے موٹرز میں اس کے اثاثوں میں شامل ہیں جو ظاہر نہیں کئے گئے ہیں، ملک کے اندر اور بیرون ملک اربوں،کھربوں کی جائیدادیں بنانے والا اختر مینگل درحقیقت بلوچستان کی محرومیوں کا سب سے بڑا سوداگر ہے۔
اختر مینگل کی سیاست ہمیشہ سے تضادات کا شکار رہی ہے۔ وہ خود کو بلوچ عوام کے حقوق کا چیمپئن ظاہرکرتا ہے، مگر عملی طور پر اس کے اقدامات اس کے ذاتی اور قبائلی مفادات کے گرد گھومتے ہیں۔ اختر مینگل ایک قبائلی سردار ہونے کے ناطے طویل عرصے تک بلوچستان کی سیاست پر قابض رہا ہے، لیکن صوبے کی محرومیوں کو صرف وفاق پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، یہی اختر مینگل وقتاً فوقتا ًوفاقی حکومت کے ساتھ اتحاد بنا کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہا ہے۔ اختر مینگل 2008 میں پیپلز پارٹی، 2013 میں مسلم لیگ (ن)، 2018 میں پی ٹی آئی اور 2022 میں پی ڈی ایم کا حصہ بنے جبکہ 2024 میں وفاقی حکومت میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
اختر مینگل کے مالی معاملات بھی مشکوک ہیں۔ اس نے منافع بخش کان کنی کے ٹھیکے حاصل کیے اور دبئی و اسلام آباد میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے، جبکہ عام بلوچ عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کی پارٹی نے وفاقی ترقیاتی فنڈز تو حاصل کیے مگر ان کا فائدہ عوام تک پہنچتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے بجائے، اس کی دولت دبئی کی جائیدادوں، اسلام آباد کی جائیدادوں اور بلوچستان کے وسائل پر اجارہ داری کے ذریعے مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اختر مینگل ہمیشہ جبری گمشدگیوں کا الزام وفاق پر عائد کرتے ہیں، مگر اس نے کبھی پارلیمانی فورمز پر سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا، بلکہ صرف سیاسی تقاریر میں اس مسئلے کو استعمال کیا۔ اس کے بھائی جاوید مینگل لشکر بلوچستان جیسے عسکریت پسند گروپ کی قیادت کر رہے ہیں، جو صوبے میں متعدد بم دھماکوں میں ملوث ہے۔ مزید برآں، اختر مینگل کے اپنے حلقے میں اسکول تک موجود نہیں، مگر اس کے بچے دبئی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو ان کے دوہرے معیار اور بلوچ عوام کے حقوق کے نام پر اپنی سیاست چمکانے کی واضح مثال ہے۔