ٹرمپ انتظامیہ کی قانونی مشکلات، سپریم کورٹ میں اپیل دائر
ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں انتظامیہ نے مختلف عدالتی شکستوں کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے تاکہ وفاقی ججوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جا سکے جو ایگزیکٹو اتھارٹی کو چیلنج کر رہے ہیں۔
سپریم کورٹ میں زیر غور اہم مقدمات
ملک بدری کی پالیسی پر پابندی: ڈی سی کورٹ آف اپیلز نے فیصلہ برقرار رکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایلین اینیمیز ایکٹ (1798) کے تحت لوگوں کو بغیر عدالتی کارروائی کے ملک بدر نہیں کر سکتی۔ عدالت نے اس اقدام کو آئینی خلاف ورزی قرار دیا۔
وفاقی ملازمین کی بحالی: نویں سرکٹ کورٹ نے حکم دیا کہ ٹرمپ کے احکامات کے تحت برطرف کیے گئے ہزاروں وفاقی ملازمین کو دوبارہ بحال کیا جائے، کیونکہ ان کی برطرفی غیر منصفانہ طریقے سے کی گئی تھی۔
تعلیمی فنڈنگ کی بحالی: پہلی سرکٹ کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی گرانٹس کو روکنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا اور اسے طریقہ کار کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ٹرانس جینڈر فوجی پالیسی مسترد
دو وفاقی عدالتوں نے ٹرمپ کی ٹرانس جینڈر فوجی پالیسی کے خلاف فیصلہ دیا، مؤقف اپنایا کہ اس سے سروس ممبران کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔جج اینا رئیس نے کہا کہ "ٹرانس جینڈر فوجیوں نے ہمیشہ باعزت خدمات انجام دی ہیں، انہیں زبردستی فوج سے نکالنا غیر قانونی ہوگا۔”
سگنل میسجنگ ایپ اسکینڈل
وفاقی مقدمے میں انکشاف ہوا کہ نائب صدر جے ڈی وینس سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام نے یمن میں خفیہ فوجی کارروائیوں پر بات کرنے کے لیے سگنل ایپ کا استعمال کیا۔ایک جج نے تمام متعلقہ پیغامات اور مواصلات کو محفوظ رکھنے کا حکم جاری کر دیا، تاکہ حکومت کے شفافیت کے اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔