پیرس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے ایک بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت یوکرین آئندہ دس برسوں میں 100 رافیل جنگی طیارے حاصل کرے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملوں میں تیزی لائی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق دستخط کے بعد زیلنسکی نے اس معاہدے کو دنیا کا ’’سب سے بہترین فضائی دفاعی ڈیل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یوکرین کی فضائی صلاحیت میں انقلابی اضافہ کرے گی۔ فرانسیسی صدارتی محل ایلیزے نے تصدیق کی کہ معاہدے میں رافیل طیاروں کے ساتھ جدید فضائی دفاعی نظام، بم اور ڈرونز بھی شامل ہیں اور تمام ساز و سامان داسوٹ کی جانب سے نیا تیار کیا جائے گا، یعنی فرانس اپنے موجودہ ذخائر سے کچھ منتقل نہیں کرے گا۔
صدر میکرون نے بھی معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’100 رافیل طیارے بہت بڑی تعداد ہے اور یوکرینی فوج کی نئی تشکیل کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔‘‘ معاہدے کی خبروں کے بعد داسوٹ کے شیئرز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 1137 جی ایم ٹی تک 7.4 فیصد بڑھ گئے۔
رپورٹ کے مطابق فرانس آئندہ دو برسوں میں مرحلہ وار رافیل طیاروں کی ترسیل شروع کرے گا، جبکہ دونوں ممالک نے دفاعی تعاون اور تکنیکی اشتراک مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

