پشاور : خیبرپختونخوا میں عوام کی ایک بڑی تعداد انتہا پسندی کو مسترد کر رہی ہے،اس حوالے سے ہلاک خارجی شہریار کی والدہ کا پیغام سامنے آیا ہے۔
عوام کیلئے خصوصی پیغام میں ہلاک دہشتگرد شہریار کی والدہ نے کہا ہے کہ میرا بیٹا مدرسے میں پڑھتا تھا،اسے فتنہ الخوراج ہم سے دور لے گئے،وہ حکومت کیخلاف لڑ رہا تھا، میں اسے دو تین بار ڈھونڈنے گئی لیکن خارجیوں نےمیرے بیٹے کو مجھے واپس نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے ظالموں نے میرے بیٹے کو مجھ سے لے دور کرکے حکومت کے خلاف کر دیا،میرا بیٹا ظالم خوارج کے ہاتھوں مارا گیا،وہ میرے باقی بیٹوں کو بھی رابطہ کرکے ہراساں کر رہے ہیں،ہم خوراج سے تنگ آکر گاؤں چھوڑ رہے ہیں،میری تمام ماؤں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں۔
اس سے قبل روح اللہ نامی بدنام زمانہ دہشتگرد کے والد نے بھی اپنے بیٹے سے لا تعلقی کا اعلان کیا تھا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوراج کے خلاف خیبرپختونخوا کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس کی واضح مثالیں حالیہ دنوں میں سامنے آئی ہیں،فتنتہ الخوراج کم عمر پاکستانی قبائلی نوجوانوں کو دہشتگردی کی آگ میں ایندھن کے طور پر دہشتگردی میں استعمال کر رہے ہیں،ہلاک دہشتگرد شہریار کی والدہ کا دہشتگردوں کیخلاف بیان معمولی نوعیت کا واقعہ نہیں،”فتنتہ الخوراج کی صفوں میں شامل دہشتگردوں کے والدین کی جانب سے اظہار ِلاتعلقی اور دیگر بیانات کا سلسلہ عوام کے دہشتگردی سے متنفر ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے ہ مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے کھلے دشمن ہیں،پاکستانی عوام کو چاہئیے کہ فتنہ الخوارج کے گھناؤنے چہرے پہچان لیں اور اپنے بچوں کوخوارج کے پروپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچائیں۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلی پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئے باب کی نشاندہی کرتی ہے،یہ واضح ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے،فتنتہ الخوارج کا مذہب سے دور دور تک تعلق نہیں بلکہ یہ مکروہ عناصر پاکستان دشمن قوتوں کے ایماء پر پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں،فتنہ الخوراج کے بنوں میں چوکی پرحملے، تیراہ میں سکیورٹی اہلکار کے گھرکا محاصرہ ،کرک اور لکی مروت میں دہشتگردوں کیخلاف عوام کا اتحاد دہشتگردوں کی بڑی ناکامی ہے۔
خوراج سے تنگ آکر گاؤں چھوڑ رہے ہیں،تمام ماؤں سے گزارش ہے اپنے بچوں کا خیال رکھیں: ہلاک دہشت گرد کی والدہ کا پیغام
