وفاقی آئینی عدالت نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی کرپشن پر برطرف افسر کی بحالی کیخلاف اپیل خارج کر دی۔
وکیل کے پی ٹی رفاقت شاہ کے مطابق سابق ایچ آر منیجر انس ارباب کو غیرقانونی بھرتیوں پر برطرف کیا گیا، ایف آئی اے نے بھرتیوں کی فائلیں انس ارباب کے گھر سے برآمد کیں، انس ارباب کی اپنی بھرتی کے دور کی فائلیں بھی غائب ہیں۔
رفاقت شاہ کے مطابق انس ارباب 1989 میں ایڈہاک بھرتی ہوئی اگلے سال خراب کارکردگی پر برطرف ہوگیا، انس ارباب کو 1990 میں وزیرمواصلات کی مداخلت پر بحال اور مستقل کیا گیا۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ آپ کیوں نہیں پڑھ رہے، کسی کو ٹرائل کئے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی، سندھ ہائی کورٹ کے مطابق ملزم کیخلاف کوئی انکوائری ہی نہیں ہوئی۔
جسٹس عامر فاروق کے مطابق کے پی ٹی نے فیکٹ فائنڈنگ کروائی تھی جسے انکوائری نہیں کہا جا سکتا، دوبارہ انکوائری اس لئے نہیں ہوسکتی کہ ایچ آر منیجر ریٹائر ہوچکا ہے، عدالت قانون سے بالاتر کوئی کام نہیں کر سکتی۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کے پی ٹی کی اپیل پر سماعت کی، ایچ آر منیجر انس ارباب کو کے پی ٹی نے کرپشن الزامات پر برطرف کر دیا تھا۔
سندھ ہائیکورٹ نے برطرفی کالعدم قرار دی، ریٹائرمنٹ عمر ہونے پر پنشن و مراعات دینے کا حکم دیا تھا، کے پی ٹی نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
