زیرِ زمین قیادت: اسرائیلی حملوں کے بعد حماس کا خفیہ تنظیمی ماڈل

0

اسرائیلی کارروائیوں کے دباؤ کے تحت حماس نے اپنی قیادت کو نئی حکمت عملی کے تحت خفیہ طور پر منظم کر لیا ہے، جس سے اس کے بقیہ رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ سے بچانے کی ایک سنجیدہ کوشش سامنے آئی ہے۔

7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے عزم کے ساتھ جاری زمینی و فضائی حملوں نے گروپ کے کمانڈ اسٹرکچر کو گہری ضرب لگائی۔

اطلاعات کے مطابق، اسماعیل ہنیہ، محمد دیف اور یحییٰ سنوار سمیت متعدد اعلیٰ رہنما ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان نقصانات کے باوجود، حماس نے تیزی سے نئے، مگر خفیہ رہنماؤں کو تعینات کر کے ایک اجتماعی قیادت کے ماڈل کو اپنایا ہے۔

اب عزالدین القسام بریگیڈز سمیت عسکری ڈھانچے میں کسی بھی کمانڈر کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی۔

قریبی ذرائع کے مطابق، "نئے کمانڈر کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا ہے” — جس کا مقصد تحفظ اور آپریشنل تسلسل ہے۔

دفاعی ماہرین کا شک ہے کہ یحییٰ سنوار کے بھائی، محمد سنوار کو یہ کمان سونپی گئی ہے، جن کا ماضی میں یرغمالیوں کے آپریشن سے تعلق رہا ہے۔

حماس اب اجتماعی فیصلہ سازی پر انحصار کر رہی ہے:

سیاسی بیورو کی سربراہی میں تنظیم کا نظم و نسق جاری ہے، جو شوریٰ کونسل کے ماتحت کام کرتا ہے — ایک نیم قانون ساز ادارہ۔

یہ طریقہ کار قیادت کی تقسیم کے ساتھ تنظیمی تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.