پاکستان میں ابھی موسم گرما کا آغاز ہے لیکن ملک کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔۔ بڑھنے درجہ حرارت سے ہیٹ ویو کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔۔
طبی ماہرین نے ہیٹ ویو کو انسانی صحت کیلئے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔۔ پاکستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے چاروں صوبائی حکومتوں کو ہیٹ ویو سے پیشگی آگاہ کرتے ہوئے بچوں کی موسم گرما کی تعطیلات وقت سے پہلے کرنے کی سفارش کر دی ہے۔۔
اتھارٹی نے اپنے خط میں کہا ہے اس سال کم بارشوں اور ہوا کے کم دباؤ کے باعث ہیٹ ویو خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔۔
سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، ملک کے مختلف علاقوں میں 14 سے 19 اپریل کے دوران ہیٹ ویو کا بھی خطرہ ہے۔
آج سبی، لاڑکانہ، حیدرآباد اور دادو میں شدید گرمی پڑی اور درجہ حرارت 44 ڈگری تک پہنچ گیا۔
ملک کے مختلف علاقوں میں 14 سے 19 اپریل کے دوران ہیٹ ویو کا بھی خطرہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے سندھ کے اکثر مقامات پر درجہ حرارت 46 سے 48 ڈگری تک جانے کی پیش گوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں ہیٹ ویو جیسی صورت حال رہےگی۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ کراچی میں بھی موسم گرم ہے اور اپریل کے آخر میں ہیٹ ویو کا خدشہ ہے۔ اب سے تھوڑی دیر پہلے تک کراچی میں درجہ حرارت 39 ڈگری ، شدت 40 ڈگری محسوس کی گئی۔
موسمیاتی تجزیہ کار کے مطابق کراچی میں ہوا کے رخ میں تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ ہوا، سمندری ہوائیں چلنے سے موسم بہتر ہونےکی امید ہے