پاکستان کا اقوام متحدہ سے مطالبہ: "کشمیر میں بھارتی جبر کے خلاف کارروائی کی جائے”

0

پاکستان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کریں۔ اقوام متحدہ کے ایک حالیہ اجلاس میں پاکستان نے اس صورتحال کو "ریاستی دہشت گردی اور مجرمانہ جبر” قرار دیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کے قونصلر جواد اجمل نے وکٹمز آف ٹیررازم ایسوسی ایشنز نیٹ ورک (VoTAN) کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ بھارت کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے لیے عالمی سطح پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا”کوئی بھی سفارتی بیان کشمیر میں ریاستی ظلم و ستم کی حقیقت کو چھپا نہیں سکتا۔”

اجلاس کے دوران بھارت کی نائب مستقل نمائندہ یوجنا پٹیل نے پاکستان پر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو "بے بنیاد پروپیگنڈا” کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا اور دہشت گردی کی حمایت کا بھی دعویٰ کیا۔
پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "900,000 بھارتی فوجی کشمیر پر وحشیانہ قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں

پاکستان نے پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی، متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہشت گردی کی مذمت کی قرارداد کی حمایت کی۔
جواد اجمل نے کہا”پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے — 20 سال میں 80,000 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔”

اجمل نے مارچ 2025 میں بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کا ذکر کیا، جس میں 30 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں بیرونی ریاستی حمایت شامل تھی، اور اشارہ دیا کہ بھارت اس میں ملوث ہو سکتا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے ریاستی دہشت گردی، مذہبی انتہاپسندی، اور سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانے کے خطرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ڈس انفارمیشن مہموں کے خلاف ایک جامع حکمت عملی اپنائے

پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا، جو کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتی ہیں۔
اجمل نے کہا”بین الاقوامی برادری کو شکار کی بنیاد پر مؤقف اپنانا ہوگا — ایسا مؤقف جو پائیدار، منصفانہ اور سیاسی تعصب سے پاک ہو۔”

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.