فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں ہے جس کے باعث ٹیکسوں میں کمی یا سہولت نہیں دے سکتے۔
تاہم وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا عندیہ دیا ہے۔۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں نے اسٹرکچرل ریفارمز پر عملدرآمد جاری رکھنے پر زور دیا ہے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا۔۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیاں نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے آئندہ ے مالی سال کا بجٹ اہداف کے لحاظ سے مشکل ہوگا ۔ کسی شعبے کیلئے ٹیکس میں کمی کرنا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ویڈیو لنک کے زریعے بریفنگ میں بتایا کہ وزارت خزانہ نئے بجٹ 26-2025 سمیت طویل مدتی ٹیکس پالیسی کی تیاری پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا ایف بی آر صرف ٹیکس وصولیوں پر فوکس کرے گا۔ حالیہ دورہ امریکہ میں 70 سے زیادہ میٹنگز کیں۔ عالمی مالیاتی اداروں، دوطرفہ شراکت داروں اور ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کی معاشی کارکردگی میں بہتری کا اعتراف کیا ہے
۔ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں کی نجکاری سمیت مختلف شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اجلاس میں رکن آغا رفیق اللہ نے وزارت اورسیز پاکستانیز سمیت مختلف سرکاری ادارں میں ملازمین کو کم از کم ماہانہ 37 ہزار روپے اجرت نہ دینے کا انکشاف کیا ۔کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت خزانہ سے 30 روز میں تفصیلی رپورٹ مانگ لی