امریکا اور یوکرین کے درمیان اہم معدنیات کے تاریخی معاہدے پر دستخط
امریکا اور یوکرین نے اہم معدنیات، اقتصادی بحالی اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جو نہ صرف یوکرین کی جنگ کے بعد تعمیر نو میں مدد دے گا بلکہ امریکی انڈسٹریز کو قیمتی وسائل تک ترجیحی رسائی بھی فراہم کرے گا۔
معاہدے پر دستخط واشنگٹن ڈی سی میں یوکرین کی نائب وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو اور اعلیٰ امریکی حکام نے کیے۔ ماہرین اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا نیا دور قرار دے رہے ہیں۔
معاہدے کی نمایاں خصوصیات
اسٹریٹجک سرمایہ کاری فنڈ
- امریکا اور یوکرین مشترکہ فنڈ قائم کریں گے، جو یوکرین میں انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی کو فروغ دے گا۔
- امریکی فوجی امداد کو اس فنڈ کا حصہ تصور کیا جائے گا۔
قیمتی معدنی وسائل تک رسائی
- امریکا کو لیتھیم، ٹائٹینیم، گریفائٹ، ایلومینیم اور نایاب زمینی عناصر تک ترجیحی رسائی حاصل ہو گی۔
- یہ معدنیات دفاع، توانائی اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
یوکرین کو کوئی قرض نہیں
- یوکرین اپنے قدرتی وسائل پر مکمل مالکیت اور اختیار برقرار رکھے گا۔
- ماضی میں دی گئی کسی بھی امریکی امداد کی واپسی لازم نہیں ہو گی۔
سفارتی اور تزویراتی اہمیت
یہ معاہدہ یوکرین کے لیے صرف اقتصادی بحالی کا ذریعہ نہیں، بلکہ امریکا کی طرف سے سفارتی اعتماد اور جغرافیائی توازن کے لیے اہم اشارہ بھی ہے۔ایک امریکی اہلکار کے مطابق”یہ صرف معدنیات کا سودا نہیں، بلکہ یوکرین کو ایک محفوظ اور خودمختار ریاست کے طور پر تعمیر کرنے کا وعدہ ہے۔”
یہ معاہدہ یوکرین اور امریکا کے تعلقات میں ایک نئے اور طویل مدتی باب کی بنیاد رکھتا ہے، جو جغرافیائی سیاست، اقتصادی خودمختاری اور اسٹریٹجک مفادات کو یکجا کرتا ہے۔