جمیعت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں بھارت کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کے موقع پر وزیراعظم کی غیر حاضری پر ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔۔
ایوان سے خطاب میں کہا آج ایک اہم مسئلے پہ اجلاس ہو رہا ہے اور ایوان میں حکومتی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس اہم موقع پر نہ وزیراعظم، وزیر خارجہ اور نہ ہی وزیر دفاع نے قومی اسمبلی آنا گوارا کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا یہاں وزیر اعظم کو موجود ہونا چاہیے تھا۔ غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ وزرا بھی یہاں موجود نہیں۔ ہم تو یہاں بہت جذبے کے ساتھ آئے تھے۔۔ حکومتی غیر سنجیدگی پر ایوان سے واک آؤٹ کر رہے ہیں۔۔
پارلیمنٹ سے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا بھارت نے ہمیں للکارا ہے۔ حکومت پارلیمنٹ کو تیاریوں کے حوالے سے اعتماد لے۔ ہم نے پارلیمنٹ کی کارروائی سے بائیکاٹ کیا ہے۔۔
انہوں نے کہا فوج جنگ اکیلے نہیں لڑتی پوری قوم ساتھ ہوتی ہے ۔۔ سیاسی قیادت فوج کی پشت پر نہیں کھڑی ہے۔۔ اس وقت متنازع ایشوز کو چھیڑا جارہا ہے۔ ملک میں نئے ہنگامے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔ سب چیزیں چھوڑ کر ملک کی وحدت اکٹھے ہونا ہوگا۔۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا جنگ کی بات انڈیا کررہا ہے وہاں مودی حکومت کو عوامی حمایت نہیں مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کل جماعتی کانفرنس بلانا حکومت کا کام ہے۔۔ ہم کل جماعتی کانفرنس بلائیں گے تو تقسیم کی باتیں ہوں گی۔۔ کل جماعتی کانفرنس بلانے کی نوبت آتی ہے تو سابق وزیراعظم نواز شریف سے رابطہ کریں گے۔۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔۔بھارت مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔۔ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہے۔۔۔ آج توقع تھی آج قرارداد آئے گی مگر کچھ بھی نہیں ہو ۔۔۔ وزیر اعظم ، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اپنی بات کس کو سنائیں۔۔ اسلیے ہم اجلاس سے باہر نکل آئے۔۔