پاکستان میں امریکی سرمایہ کاروں نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔۔ وفد کی قیادت کامران عطا اللہ خان نے کی ۔۔وزارتِ خزانہ اور ایف بی ار کے حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کی ترقی میں امریکی کاروباری اداروں کے دیرینہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کا دائرہ اور گہرائی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔۔پاکستان اس شراکت کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔۔
امریکی سرمایہ کاروں نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر وزیر خزانہ کو تجاویز دیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بات چیت صرف بجٹ سیزن تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔۔۔ حکومت ایک بہتر اور قابلِ پیشگوئی پالیسی ماحول قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔۔ نئے طریقہ کار کے تحت ٹیکس پالیسی آفس کو مضبوط بنانے اور ایڈوائزری پینل تشکیل دیا جائے گا۔۔
انہوں نے وفد کو بتایا حکومت اصلاحاتی عمل کو مکمل طور پر جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔۔ آئی ایم ایف کے 25ویں پروگرام سے بچنا ہے تو مستقل اصلاحات ناگزیر ہیں۔۔ ٹیکس نیٹ کو وسع، تمام شعبوں میں مؤثر نفاذ اور ٹیکس دہندہ کا بوجھ کم کیا جائے گا
وزیر خزانہ نے کہا سپلائی اور ویلیو چین میں کسی بھی قسم کی لیکیج کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔۔معیشت کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کو ایف بی آر اصلاحات کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔۔ اصلاحات کیلئے مالی وسائل دستیاب ہیں، اب ضرورت حکمتِ عملی اور تکنیکی مہارت کی ہے