بھارت نے پاکستان کی حمایت پر ترکیہ سے تجارتی و تعلیمی روابط معطل کر دیے
بھارت نے ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی غیر مشروط حمایت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ترکیہ کے ساتھ تجارتی و تعلیمی روابط معطل کر دیے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ کی جانب سے پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کا غیر مشروط ساتھ دینا قابل قبول نہیں، اور بھارت اپنی خودمختاری پر سوال اٹھانے والے ممالک سے تعلقات پر نظرثانی کی پالیسی پر قائم ہے۔
ترکیہ سے تعلقات میں سرد مہری کے حالیہ اقدامات میں شامل ہیں:
- ترکیہ سے تجارتی و تعلیمی روابط کی معطلی
- بھارتی ہوائی اڈوں پر کام کرنے والی ترک کمپنی کی سیکیورٹی کلیئرنس کی منسوخی
- ترک سیب کے بائیکاٹ کی عوامی مہم کا آغاز
بھارت کی جانب سے سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کیے جانے کے بعد، ترک ایوی ایشن کمپنی سیلیبی نے دہلی ہائی کورٹ میں قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بغیر کسی واضح دلیل یا شواہد کے زبانی فیصلے کو قانونی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی کھلی حمایت اور بھارت کے اس پر ردعمل نے جنوبی ایشیاء میں سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔