بھارتی میڈیا کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر سنگین سوالات

0

نئی دہلی:ایک بھارتی تحقیقاتی خبر رساں ادارے "دی وائر” کی ایک رپورٹ نے مودی حکومت کے پہلگام واقعے اور اس کے بعد شروع کیے گئے "آپریشن سندور” کے حوالے سے کئی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہلگام کا واقعہ مودی حکومت کا ایک "فالس فلیگ” آپریشن تھا جس کا مقصد "آپریشن سندور” کا ڈرامہ رچانا تھا، لیکن عالمی سطح پر ان کا یہ جھوٹ بے نقاب ہو گیا۔

دی وائر کی رپورٹ نے مودی سرکار کے جھوٹ پر مبنی ہر دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پہلگام حملے سے پہلے علاقے میں مناسب سکیورٹی کیوں فراہم نہیں کی گئی؟ اگر بروقت اقدامات کیے جاتے تو 26 قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ اسی طرح، "آپریشن سندور” سے پہلے سرحدی علاقوں سے شہریوں کا انخلاء کیوں نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں بھارتی گولہ باری سے 20 افراد ہلاک ہوئے؟ رپورٹ نے سوال اٹھایا کہ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

دی وائر نے مودی کے اس دعوے کو بھی چیلنج کیا کہ پاکستان نے جنگ بندی کی بھیک مانگی تھی۔ رپورٹ میں سوال کیا گیا کہ اگر ایسا تھا تو جنگ بندی کا اعلان امریکی صدر نے کیوں کیا؟ اس کے علاوہ، بھارت جو ہمیشہ امریکی ثالثی کو مسترد کرتا رہا ہے، اب خود صدر ٹرمپ کے سامنے کیوں جھک گیا؟

رپورٹ میں پہلگام حملے کے اصل مجرموں کی عدم گرفتاری پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بھارتی انتقامی کارروائی کے دعوؤں کے باوجود، قاتل تاحال آزاد کیوں گھوم رہے ہیں؟ اسی طرح، "آپریشن سندور” کے نتائج پر مودی حکومت کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ کیا بھارتی فضائیہ کو اس آپریشن میں کوئی نقصان ہوا تھا جسے حکومت چھپا رہی ہے؟

دی وائر نے سخت سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا بھارت اب شمالی کوریا یا روس کی طرح بن چکا ہے جو اپنی عوام کو سچ بتانے سے ڈر رہا ہے؟ رپورٹ نے پلوامہ حملے کے اصل حقائق کو بھی زیر بحث لایا اور سوال کیا کہ چھ سال گزرنے کے باوجود اس حملے کے مجرم آزاد کیوں ہیں؟

رپورٹ کے مطابق، اگر بھارتی حکومت مستعد ہوتی تو پہلگام میں خونریزی نہ ہوتی۔ مودی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ دی وائر نے یہ بھی پوچھا کہ مودی سرکار صرف بدلہ لینے پر یقین رکھتی ہے، حملوں کو روکنے کے لیے کوئی پیشگی اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟ کیا اس سنگین سکیورٹی ناکامی پر کسی وزیر سے جوابدہی کی جائے گی؟

دی وائر نے بیساران میں 26 معصوم افراد کے قتل کو بھارتی حکومت کی سکیورٹی ناکامی کا واضح ثبوت قرار دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مودی سرکار نے سیاحتی مقام پر کچھ دن قبل سکیورٹی ختم کر دی تھی، جس سے عوام اپنی مدد آپ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ حملے کے وقت بیساران میں ایک بھی سکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق، پہلگام کے قاتل تاحال آزاد ہیں اور "آپریشن سندور” کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ ایک بھی دہشت گرد کو پکڑا نہیں جا سکا جبکہ پاکستان کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کر دیا گیا۔ زندہ بچ جانے والوں نے سوال کیا کہ اگر وی آئی پیز کے لیے سکیورٹی موجود ہے تو عام عوام کے لیے کیوں نہیں؟ پہلگام حملے میں زخمیوں کو ڈیڑھ گھنٹے تک کوئی مدد نہیں پہنچی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی ریاست نے اپنے شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔

دی وائر نے "آپریشن سندور” کو دہشت گردوں کو پکڑنے کے بجائے پاکستان پر الزام دھرنے کی ایک سیاسی چال قرار دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی سرکار دہشت گردوں کو پکڑنے کے بجائے پاکستان مخالف بیانیہ بنانے میں مصروف ہے۔ چھ سال گزرنے کے باوجود پلوامہ حملے کی تحقیقات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا، جو بھارتی حکومت کی ایک اور انٹیلیجنس ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ نہ پلوامہ اور نہ ہی پہلگام کا کوئی تسلی بخش جواب دیا گیا ہے۔

دی وائر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارتی حکومت نے "آپریشن سندور” میں اپنے طیاروں کے نقصانات کو چھپایا، اور رافیل طیاروں کی گمشدگی پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مودی سرکار "آپریشن سندور” کے نام پر صرف آپریشنز پر آپریشنز کر رہی ہے جبکہ عوام کو سچ سے دور رکھا جا رہا ہے۔ بھارتی جمہوریت میں جوابدہی کا نظام مودی سرکار نے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، جہاں وزراء بچ نکلتے ہیں اور عام عوام قربان ہوتے ہیں۔

دی وائر کی اس رپورٹ کے بعد پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور عالمی میڈیا میں بھارت کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی مسلسل سکیورٹی ناکامیاں پاکستان کے خلاف جھوٹے حملوں کی بنیاد بن رہی ہیں اور بھارتی میڈیا اور حکومت جنگی جنون میں اپنی عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ بھارت کی شفافیت سے دوری خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.