اسرائیلی فوج کی سفارتی وفد پر فائرنگ، ❝25 سفیروں کو جان بچانے کے لیے کور لینا پڑا، ویڈیو وائرل❞
بدھ کے روز اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے جنین میں بین الاقوامی سفارتی وفد کے قریب فائرنگ نے عالمی سطح پر شدید تشویش اور سفارتی احتجاج کو جنم دیا ہے۔واقعہ اس وقت پیش آیا جب 31 ممالک کے 25 سفارت کار انسانی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقے کا دورہ کر رہے تھے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وفد نے "منظور شدہ راستے سے انحراف” کیا، جس پر "انتباہی گولیاں” چلائی گئیں تاکہ وفد کو واپس موڑنے کا اشارہ دیا جا سکے۔تاہم، یہ اقدام بین الاقوامی سفارتی قوانین اور اصولوں کے برعکس تصور کیا جا رہا ہے۔
ویڈیو منظر عام پر، سفیروں کی بھاگ دوڑ
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کئی سفارت کار میڈیا کو انٹرویو دے رہے تھے۔ فائرنگ کی آواز سے وفد کے ارکان میں کھلبلی مچ گئی اور انہیں فوری طور پر پناہ لینا پڑی۔واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس میں سفارت کاروں کو جھکتے اور بھاگتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
عالمی سطح پر شدید مذمت
واقعے کے بعد دنیا بھر سے شدید سفارتی ردعمل سامنے آیا:
- کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اسے "مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیا اور فوری وضاحت کا مطالبہ کیا، یہ انکشاف کرتے ہوئے کہ چار کینیڈین سفارت کار اس گروپ کا حصہ تھے۔
- اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ سفارتی عملے کے تحفظ اور استثنیٰ کا احترام کرے۔
- مصر نے فائرنگ کو سفارتی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
- فلسطینی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے "جان بوجھ کر وفد کو نشانہ بنایا” تاکہ انسانی حقوق کی صورتحال کے جائزے کو روکا جا سکے۔
- فرانس، جرمنی، ترکی، اور یورپی یونین نے واقعے پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی فوج نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ انہیں واقعے پر "افسوس” ہے اور وہ متعلقہ سفارتی وفود کے ساتھ تحقیقات کے نتائج شیئر کریں گے۔