مودی کا بھارت نفرت، تعصب اور ظلم کا گڑھ، تجزیہ کاروں کی شدید تنقید

0

نئی دہلی: بھارت میں مودی سرکار کی انتہا پسندانہ پالیسیوں پر اب بھارتی تجزیہ کار اور مصنف بھی کھل کر تنقید کرنے لگے ہیں۔ معروف سیاسی تجزیہ کار اور مصنف آوے شکلا نے دی وائر کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں مودی سرکار کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عام عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

پروگرام میں کرن تھاپر کی جانب سے بھارت میں ہونے والے حالیہ واقعات پر اہم سوالات اٹھائے گئے، جن میں یہ بھی شامل تھا کہ "کیا انتہا پسند سوچ رکھنے والے بھارتی، مسلم ورثے کو اپنی ہندو سنسکرتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں؟”

آوے شکلا نے جواب میں کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، مودی کی سرپرستی میں ایک عام روایت بن چکی ہے، اور بھارت وسیع طور پر مودی سرکار کے شدت پسند ہندوتوا نظریے کا گڑھ بن چکا ہے۔

کرن تھاپر نے آوے شکلا سے ان کی کتاب کے باب "دی ڈفر زون” کے بارے میں سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ "کیا آپ واقعی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک نااہل قوم ہیں؟” اس پر آوے شکلا نے بھارت کو مودی کی انتہاپسندی کے زیر اثر "ڈفر زون” قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی کے زیر حکومت بھارت میں تعصب، جہالت اور نفرت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے، اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور تنقید کرنے والوں کو "غدار” ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

آوے شکلا نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والی مودی سرکار عوام کی آزادی رائے کو دبانے میں مصروف ہے۔ کرن تھاپر نے سوال اٹھایا کہ "کیا ڈفرز اور سارجنٹ میجرز کا یہ امتزاج بھارت کو ایک ناقابلِ قبول قوم بنا رہا ہے؟”

آوے شکلا نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر بھارت کو ایک "ناقص جمہوریت” کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے، اور بھارت کی یہ عالمی سطح پر رسوائی مودی کی ناقص حکمرانی کی دلیل ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت میں زبان کی بنیاد پر نفرت اور تعصب، قومی اتحاد کو کمزور کرنے والی پالیسیوں کا حصہ بن چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مودی کے بھارت میں عوام اپنی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، اچھی تعلیم، صحت اور معقول روزگار سے محروم ہیں۔ آوے شکلا نے کہا کہ بھارت کی روایتی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافت مودی کی انتہا پسند سوچ کے باعث شدید خطرے میں ہے، اور بھارت ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں انصاف، آزادی، اور انسانی وقار کی جگہ حکمرانوں کی آمریت نے لے لی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.