یورپی یونین نے غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل پر پابندیوں پر غور شروع کر دیا
برسلز — یورپی یونین نے پیر کو غزہ میں انسانی بحران اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کے تناظر میں اسرائیل پر ممکنہ سفارتی و اقتصادی پابندیاں عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، اگر اسرائیل نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی پاسداری نہ کی تو۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس نے کہا”ہم نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں نوٹ کی ہیں۔ اگر زمین پر بہتری نہ دیکھی گئی تو ہم جولائی میں پابندیوں پر غور کریں گے۔”
یہ بیان یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد آیا، جس میں ایک داخلی رپورٹ پر غور کیا گیا جس نے غزہ کی بگڑتی صورتحال اور مغربی کنارے میں آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کو نمایاں کیا۔
رپورٹ کی اہم نکات:
- غزہ میں خوراک، بجلی، طبی سہولیات کی شدید قلت
- مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملے
- انسانی حقوق کی پامالی پر یورپی-اسرائیل ایسوسی ایشن معاہدے کے آرٹیکل 2 کی خلاف ورزی
رپورٹ میں اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف (ICJ) کے حوالہ جات بھی شامل تھے، جو اس جائزے کو قانونی اور سفارتی طور پر مضبوط بناتے ہیں۔
یورپی یونین کی تقسیم: کون کہاں کھڑا ہے؟
| ملک / بلاک | مؤقف |
|---|---|
| اسپین | معاہدے کی معطلی، ہتھیاروں کی پابندی کی وکالت |
| بیلجیم، آئرلینڈ، سویڈن | پابندیوں کے حق میں لیکن مزید غور کی سفارش |
| فرانس | انسانی حقوق کی خلاف ورزی تسلیم کی، آئندہ اجلاس میں کارروائی پر زور |
| جرمنی، اٹلی، یونان | پابندیوں کی مخالفت، سفارتی مذاکرات کی حمایت |
| ہنگری | کسی بھی تنقیدی جائزے کی بھی مخالفت، اسرائیل کا بھرپور دفاع |
یورپی یونین کے اندر رائے کی تقسیم اس وقت واضح ہوئی جب بعض ممالک نے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر نے احتیاط اور تدریج کی حمایت کی۔
اسرائیل نے یورپی رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ”یہ رپورٹ متعصب، یک طرفہ اور پیچیدہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرتی ہے۔”
اسرائیل نے یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کو ایک سرکاری میمو کے ذریعے بتایا کہ یہ رپورٹ "اسرائیل مخالف جذبات کو ہوا دیتی ہے”۔