آواران جوائنٹ ہسپتال: حکومت بلوچستان اور پاک فوج کی شراکت سے صحت کے میدان میں انقلابی تبدیلی

0

آواران :بلوچستان کے پسماندہ ضلع آواران میں حکومتِ بلوچستان اور پاک فوج کے اشتراک سے قائم ہونے والا "آواران جوائنٹ ہسپتال” صحت کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ برسوں سے محرومیوں کا شکار اس علاقے میں اب مقامی سطح پر جدید طبی سہولیات دستیاب ہیں، جس نے نہ صرف مقامی آبادی کا اعتماد بحال کیا ہے بلکہ ان کی زندگیاں بھی آسان بنا دی ہیں۔

ماضی میں آواران اور گرد و نواح کے مریضوں کو علاج معالجے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے کراچی جانا پڑتا تھا تاہم اب جوائنٹ ہسپتال کی بدولت شہریوں کو ان کے دروازے پر معیاری علاج میسر ہے۔ ہسپتال میں جدید لیبارٹری، ماہر ڈاکٹرز اور تجربہ کار سرجنز تعینات ہیں جو روزانہ سینکڑوں مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

روزانہ کی بنیاد پر ہسپتال میں 300 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے، جبکہ اوسطاً 25 سرجریاں، 30 ایکس رے اور 150 لیبارٹری ٹیسٹ انجام دیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس امر کا ثبوت ہیں کہ ہسپتال نہ صرف فعال ہے بلکہ علاقے کے طبی مسائل کا مؤثر حل بھی بن چکا ہے۔

علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہسپتال میں واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کیا گیا ہے تاکہ مریضوں اور عملے کو صاف پانی میسر ہو۔ اس کے علاوہ فضلہ تلف کرنے کے لیے جدید انسنریٹر، بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے جنریٹرز اور سولر سسٹم بھی نصب کیے گئے ہیں، جو ہسپتال کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا واضح ثبوت ہیں۔

آواران کے علاوہ مشکئے، جھاو، گشکور اور دیگر دور دراز علاقوں کے لوگ بھی اب اس جدید طبی مرکز کا رخ کر رہے ہیں، جو کہ اس ہسپتال کی افادیت اور عوامی اعتماد کی مظہر ہے۔

عوامی سطح پر اس منصوبے کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان اور پاک فوج کی یہ مشترکہ کاوش نہ صرف طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک تاریخی قدم ہے، بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں سنجیدہ ہیں۔

آواران جوائنٹ ہسپتال نے اس علاقے میں امید، بہتری اور سہولت کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ایک ایسا ماڈل جسے بلوچستان کے دیگر پسماندہ علاقوں میں بھی دہرایا جانا چاہیے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.