اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور بغیر نتیجہ ختم

دوحہ — قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی پیش رفت کے اختتام پذیر ہوگیا ہے، جس سے 60 روزہ جنگ بندی معاہدے کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق، اسرائیلی وفد کے پاس حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے درکار اختیارات موجود نہیں تھے۔ اس تناظر میں، بات چیت رسمی دکھائی دی اور حتمی فیصلے تک پہنچنے میں ناکام رہی۔

قطر روانگی سے قبل، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے واضح کیا تھا کہ”حماس کے تازہ ترین مطالبات اسرائیل کے لیے ناقابل قبول ہیں، مگر ہم سنجیدہ مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ٹیم بھیج رہے ہیں۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے اس متضاد بیانیے نے مذاکرات کی سنجیدگی پر سوالات کھڑے کیے۔

گزشتہ ہفتے، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے قطر اور امریکہ کی جانب سے پیش کردہ نئے مجوزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے فارمولے پر مثبت ردعمل دیا تھا۔ یہ پیش رفت عالمی برادری میں امید کی کرن سمجھی گئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوجرسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا”ہمارے پاس حماس کے ساتھ اس ہفتے معاہدہ کرنے کا اچھا موقع ہے۔ ممکن ہے کچھ یرغمالیوں کی رہائی ہو جائے۔ میں نیتن یاہو سے ملاقات میں ایران اور مستقل معاہدے پر بھی بات چیت کروں گا۔”

ٹرمپ کے مطابق، اسرائیل نے 60 دن کی جنگ بندی پر بنیادی شرائط پر اتفاق کر لیا ہے، مگر عمل درآمد کے لیے زمینی حقائق اور سیاسی رضامندی اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔

جنگ بندی کے بغیر، غزہ میں انسانی بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔ خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی قلت نے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو متحرک کر دیا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ”اگر اگلے چند دنوں میں پیش رفت نہ ہوئی، تو صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے، اور ممکنہ طور پر نیا عسکری مرحلہ شروع ہو سکتا ہے۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے