پاکستان نے گریٹر اسرائیل منصوبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونی ریاست نے 62 ہزار 744 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔۔ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بعد غزہ پر اسرائیلی قبضے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ بات نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔۔
انہوں نے کہا گریٹراسرائیل منصوبہ خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے اور پاکستان منصوبے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اسرائیل کے ہاتھوں62 ہزارسےزائد فلسطینی شہید ہوچکےہیں۔
انہوں نے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے پر ترکیے اور ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دی جارہی ہے، اسپتالوں ،اسکولوں، پناہ گزین کیمپوں پر حملے عالمی قوانین کے خلاف ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ فلسطین میں قحط کی صورتحال ہے، فوری اقدامات ناگزیر ہیں، عالمی برادری غزہ میں مستقل اور غیرمشروط جنگ بندی کیلئے اقدامات کرے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ اسرائیل کا گریٹراسرائیل منصوبے خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے، پاکستان گریٹر اسرائیل منصوبے کو سختی سے مسترد کرتا ہے، پاکستان نے31 عرب واسلامی ممالک کےمشترکہ بیان کی حمایت کی اوردو ریاستی حل ہی فلسطین میں پائیدار امن کاواحد راستہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے7 فوری اقدامات تجویزکیےجن میں مستقل جنگ بندی سرفہرست ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کواسرائیل کےخلاف سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھاکہ پاکستان بطورغیرمستقل رکن فلسطین کے حق خودارادیت کیلئے عالمی رائے عامہ کومتحرک کرتا رہےگا۔
