اسلام آباد:وطن سے محبت، قربانی اور غیر متزلزل وفاداری کی روشن مثال، سپاہی مقبول حسین کی ساتویں برسی آج پورے جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ ان کی زندگی اور جدوجہد، تاریخ کے ان روشن ابواب میں شامل ہے جو آنے والی نسلوں کو وطن سے عشق کا درس دیتی رہیں گی۔
تراڑ کھل، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سپاہی مقبول حسین 4 آزاد کشمیر رجمنٹ کے نڈر اور بہادر سپاہی تھے۔ 1965 کی جنگ کے دوران انہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کا سامنا کیا اور بے مثال جرأت اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا۔
20 اگست 1965 کو وہ دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے شدید زخمی ہوئے اور بھارتی افواج نے انہیں گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد سپاہی مقبول حسین نے ایسی ناقابلِ بیان تکالیف اور اذیتیں برداشت کیں جو کسی عام انسان کے حوصلے سے باہر تھیں۔ بھارتی قید میں ان پر بدترین ذہنی و جسمانی تشدد کیا گیا، مگر انہوں نے اپنے وطن کا راز نہ دیا، اپنے لبوں پر "پاکستان زندہ باد” کا نعرہ سجائے رکھا اور کبھی ہار نہیں مانی۔
سپاہی مقبول حسین کی داستان صرف جنگی قیدی کی نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا استعارہ ہے جو حریت، غیرت، اور وطن سے بے لوث محبت کی علامت بن چکا ہے۔آج ان کی ساتویں برسی کے موقع پر پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔ غازیانِ وطن کی یہ قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ سرزمینِ پاکستان کی حفاظت کا جذبہ ہمارے محافظوں کے لہو میں شامل ہے۔
غازیانِ وطن کو سلام،سپاہی مقبول حسین کی7ویں برسی
