امریکی اپیل کورٹ نے ٹرمپ کے عالمی ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے

واشنگٹن — امریکہ کی ایک وفاقی اپیل کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں عائد کیے گئے بیشتر عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ٹرمپ نے وسیع پیمانے پر تجارتی محصولات نافذ کرتے وقت اپنے صدارتی اختیارات سے تجاوز کیا۔

فیصلے کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے سٹیل، ایلومینیم اور دیگر درآمدات پر ڈیوٹی عائد کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ایگزیکٹو اختیارات صدر کو دیے گئے قانونی دائرہ کار سے باہر ہیں۔ تاہم، عدالت نے کہا کہ یہ محصولات عارضی طور پر برقرار رہیں گے کیونکہ کیس مزید جائزے کے لیے نچلی عدالت میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے "امریکہ فرسٹ” ایجنڈے کے تحت محصولات کو نہ صرف تجارتی پالیسی بلکہ خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر بھی استعمال کیا تھا۔

  • حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان ٹیرف نے امریکی صنعتوں اور روزگار کو غیر منصفانہ بیرونی مقابلے سے محفوظ رکھا۔
  • ناقدین کا کہنا ہے کہ ان محصولات نے امریکی کاروباروں اور صارفین کے اخراجات میں اضافہ کیا اور عالمی سپلائی چین کو نقصان پہنچایا۔

ٹرمپ کے اقدامات نے چین، یورپی یونین، کینیڈا اور دیگر اتحادیوں سے درآمدات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں انتقامی ٹیرف اور تجارتی تنازعات پیدا ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ مستقبل میں امریکی تجارتی پالیسی کے طریقہ کار پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر یہ محصولات ختم کر دیے گئے تو اس سے بڑی معیشتوں کے ساتھ تناؤ میں کمی آ سکتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بحث دوبارہ شروع ہوگی کہ امریکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا موجودہ ٹیرف فریم ورک کا دفاع کیا جائے یا نئے تجارتی مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حکم کانگریس کی نگرانی کو مضبوط کرتے ہوئے تجارتی معاملات میں صدارتی اختیارات کو محدود کر سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے