کییف — روس نے جمعرات کے روز جنگ میں ہلاک ہونے والے 1000 یوکرینی فوجیوں کی لاشیں یوکرین کے حوالے کر دیں۔ یوکرین کے جنگی قیدیوں سے متعلق کوآرڈی نیشن ہیڈکوارٹر کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان جاری چند باقی بچ جانے والے انسانی ہمدردی کے تعاون میں سے ایک ہے، جو فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد سے جاری ہے۔
یوکرینی ادارے نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واپسی بین الاقوامی تنظیموں کی معاونت سے انسانی بنیادوں پر کی گئی۔ “آج وطن واپسی کے اقدامات مکمل کیے گئے۔ ایک ہزار لاشیں، جنہیں روسی فریق نے یوکرینی فوجیوں کی باقیات قرار دیا ہے، یوکرین کے حوالے کر دی گئی ہیں،” بیان میں کہا گیا۔
روسی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں اس تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسے یوکرین سے 31 روسی فوجیوں کی لاشیں موصول ہوئیں۔
یہ طرح کے لاشوں کے تبادلے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے باوجود جاری چند انسانی اقدامات میں شامل ہیں، جو 1000 کلومیٹر طویل محاذ پر جاری لڑائی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
یوکرین کے کوآرڈی نیشن ہیڈکوارٹر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جلد واپس آنے والی لاشوں کی شناخت کا عمل شروع کریں گے، جب کہ انہوں نے اس عمل میں مدد پر بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل جولائی، اگست اور ستمبر میں بھی اسی نوعیت کے تبادلے ہوئے تھے، جن میں ہر بار تقریباً ایک ہزار فوجیوں کی لاشیں واپس کی گئی تھیں، جو جنگ میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کو ظاہر کرتی ہیں۔
دونوں ممالک اپنی ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار باقاعدگی سے جاری نہیں کرتے۔ تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے رواں سال فروری میں انکشاف کیا تھا کہ یوکرین نے اب تک 46 ہزار سے زائد فوجی کھو دیے ہیں جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
آزاد ذرائع بی بی سی اور روسی میڈیا زونا کے مطابق، اوپن سورس ڈیٹا کی بنیاد پر اب تک 135 ہزار سے زائد روسی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
