واشنگٹن — امریکی سینیٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی ٹیرف (Global Tariffs) کے خلاف ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے 100 سے زائد ممالک پر لاگو محصولات کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
یہ قرارداد 51 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور کی گئی، جس میں چار ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ٹرمپ کی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا۔
ٹیرف کے خلاف ووٹ دینے والے ریپبلکنز میں سوسن کولنز (مین)، مچ میک کونل (کینٹکی)، رینڈ پال (کینٹکی)، اور لیزا مرکووسکی (الاسکا) شامل ہیں۔
یہ اقدام ریپبلکن جماعت کے اندر ٹرمپ کے خلاف ایک نایاب اور علامتی بغاوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے درجنوں ممالک پر درآمدی اشیا پر اضافی محصولات عائد کیے تھے، جنہیں انہوں نے “باہمی” (Reciprocal) ٹیرف قرار دیا تھا۔
سینیٹ کی قرارداد براہِ راست قانونی اثر نہیں رکھتی، تاہم اسے صدر کی پالیسی کے خلاف ایک سیاسی تنبیہ سمجھا جا رہا ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے کہا “یہ علامتی اقدام صدر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کانگریس اب ان کے یکطرفہ تجارتی فیصلوں کو چیلنج کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔”
امکان ہے کہ یہ قرارداد ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) سے منظور نہیں ہو گی، کیونکہ ہاؤس ریپبلکنز نے اس سال کے آغاز میں ایک نیا قاعدہ نافذ کیا تھا جو ٹیرف سے متعلق قراردادوں پر ووٹنگ کو روکتا ہے۔
یہ ووٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ ایشیا کے دورے کے اختتام پر ہیں، جہاں انہوں نے چین کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت چینی مصنوعات پر محصولات کم کرنے اور چین کو امریکی سویابین خریدنے پر مجبور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں اگرچہ "امریکہ فرسٹ” کے نعرے پر مبنی ہیں، لیکن کسانوں اور چھوٹی صنعتوں پر منفی اثرات مرتب کر چکی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ کے کچھ اتحادی بھی اب ان کی جارحانہ تجارتی پالیسیوں سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔
سینیٹ کے اندر بڑھتی ہوئی اختلافی آوازیں بتاتی ہیں کہ آئندہ مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
